ذات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف قانون سازی پر برطانوی دلتوں اور ہندوؤں میں زبردست تناؤ

anti-caste-meeting2

محمد غزالی خان

لندن: اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ذات پات کی بنیاد پر کئے جانے والے امتیاز کو جرم قرار دینے سے متعلق قانون سازی  کو روکنے کیلئے زبردست مہم کا آغاز کردیا ہے ۔

واضح رہے کہ حقوق انسانی، دلت اور دیگر نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کی تنظیمیں کئی سال سے اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے ذات پات کی بنیاد پر برتے جانے والی تفریق اور امنتیاز کو نسلی امتیاز کی طرح جرم قرار دیاجائے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں نسلی بھید بھاؤ اتنا ہی سنگین ہے جتنا کہ ہندوستان میں۔

اس ضمن میں برطانوی حکومت برطانوی ہندوؤں سے مشاورت کر رہی ہے جو غالباً کرسمس سے پہلے شروع ہو گا اور تقریباً 12 ہفتے چلے گا۔

گزشتہ ہفتہ، بتاریخ 23 نومبر، انڈین فورم آن برٹش میڈیاکی جانب سے ہاؤس آف کامنز کے ایک کمیٹی روم میں’’برطانوی قوانین اورذات پات ‘‘ کے عنوان پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں مجوزہ قانون کے حق اور اس کے خلاف دونوں فریقین نے اپنے اپنے دلائل دئے۔

دلت نمائندگان نے تاریخ، کتب اور دیگر دستاویزات کے حوالے دے کر مخالفین کا منہ بند کر دیا۔

جو لوگ اس قانو ن کی مخالفت کر رہے ہیں ان میں کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ باب بلیک مین، جن کا حلقہ انتخاب ہیرو ایسٹ ہے، اور لیبر رکن پارلیمنٹ وریندر شرما ہیں، حلقہ انتخاب ساؤتھ ہال ، شامل ہیں ۔ دونوں کے حلقہ انتخاب میں ہندوتوا عناصر کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اپنی تقریر میں بلیک مین نے کہا ، ’’میں برطانوی ہندو کمیونٹی کے ساتھ گزشتہ 30 سال سے کام کر رہا ہوں۔ اور میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ برطانوی ہندوؤں کی جانب سے کسی دوسرے مسئلے پر ایسی گہری دلچسی کا اظہار نہیں کیا گیا ہے جو اس مسئلے پر دیکھنے میں آرہی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ، ’’میرا خیال ہے کہ زات کے مسئلے کو اس طرح قانون کے تحت نہیں لایا جانا چاہئے۔ اسے قانون سے خارج کردیاجانا چاہئے کیونکہ امتیاز سے متعلق عام طور پر قوانین پہلے ہی سے موجود ہیں۔‘‘

مسٹر بلیک مین نے مزید کہا کہ ، ’’ذات کا احساس یا اس کی بنیاد پر امتیاز برتے جانے کا اب برطانیہ میں کوئی وجود نہیں ہے۔ ہو سکتاہے کہ ایسا رجحان ہندوستان سے آنے والوں کی پہلی نسل میں ہو مگر اب یہ بات پرانی اور ختم ہو چکی ہے۔‘‘

تاہم برطانیہ میں ذات پات کا رجحان کتنا گہرا اور مضبوط ہے وہ ان تقاریر کے دوران واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا جو مجوزہ قانون کے خلاف کی گئی تھیں۔ رِدھی ویاس نام کی ایک خاتون ، جو پیشے سے شاید وکیل ہیں، جن کی عمر 25 یا 30 سال کے درمیان ہوگی اور جو ، غالباً، برطانیہ میں ہی پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہیں، نے اپنی تقریر میں نہ یہ کہ ذات پات کا دفاع کیا بلکہ انھوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ، ’’یہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے‘‘۔ خاتون نے سامعین کی معلومات میں یہ اضافہ بھی کیا کہ، ’’ذات پات کوئی ایسی شئے نہیں جو کسی سے چپکی رہ جائے۔ بلکہ کوئی چاہے تو اپنی محنت ، لگن اور اعلیٰ اقدار سے اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔‘‘ موصوفہ نے ہندو دھرم میں ورنا سسٹم سے متعلق بھی معلومات فراہم کیں جس کے تحت ، بقول ان کے ، ’ ’’ الگزینڈر فلیمنگ اور ایلبرٹ اینسٹائن کی طرح برہمن تحقیق، جستجو اور علم کے عاشق ہوتے ہیں۔ ‘‘ موصوفہ کی تقریر کے دوران مخالفین کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی جبکہ کچھ نے فقرے بازی بہی کی جو ہندوتوا علمبرداروں کو سخت ناگوار معلوم ہو رہی تھی۔

ان سے پہلے پروگرام کی ماڈریٹر بھانو سسلا نے سامعین کی معلومات میں یہ بتا کر اضافہ کیا تھا کہ ہندو مذہبی کتابوں میں ذات نام کا کوئی لفظ ملتا ہی نہیں اور یہ کہ یہ محض نوآبادکار برطانوی استعماریت کی ایجاد ہے۔

بہرحال کاسٹ واچ یوکے کے صدر ستپال ممان ، جو ذات پات سے متاثرہ افراد کی رہنمائی کرتے ہیں، نے ذات موافق مقررین کے موقف کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ انھوں نے کہا ، ’’مجوزہ قانون کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بے حد گمراہ کن باتیں اور جھوٹ پھیلایا جارہاہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ، ’’اس قانون کی مخالفت میں ہندو اور کچھ سکھ رجعت پسندیکجاہوکرسامنے آگئے ہیں۔ کمیونٹی کو بیقوف بنانے اور گمراہ کرنے کیلئے ان لوگوں نے ہرقسم کے حربے استعمال کرنا شروع کردئے ہیں۔‘‘

ممان صاحب نے بتایا کہ گزشتہ انتحابات کے دوران ان گروہوں کی جانب سے ان ارکان پارلیمنٹ کی کردار کشی کی ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا جنہوں نے مجوزہ قانون تیار کیا تھا۔ نیز انہوں گمراہ کن پروپیگنڈے پر مبنی خبر نامے اور لیفلیٹس تقسیم کئے اور یہاں تک کہ لوگوں پر جسمانی حملے بھی کئے۔ ہندوتنظیموں کے ایک اتحاد کے خط ، مورخہ 20 مارچ 2014 ، کا حوالہ دیتے ہوئے ممان صاحب نے کہا کہ اس خط میں مجوزہ قانون کو ہندو مخالف اور ہندو نسل پر حملہ قرار دیا تھا۔ ایک اور خط کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس قانون کے خلاف مہم کو ’’دھرم رکشا‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ گرونانک اور گرو روی داس سمیت بہت سی علمی اور مذہی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان سب نے ذات پات کے خلاف انگریزوں کے ہندوستان آنے سے بہت پہلے لکھا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ منو اسمرتی تقریباً چوتھی صدی میں لکھی گئی تھی جس وقت انگریزوں کے بارے میں کسی کو پتہ بھی نہیں تھا۔

ادا کار اور دلت ایکٹوسٹ سنویدن اپرانتی نے کہا کہ کوریگاؤں کی لڑائی 1818 میں لڑی گئی تھی جس میں پیشوا کے سلوک اور جانوروں جیسا سلوک کئے جانے کی وجہ سے 500 اچھوتوں نے حصہ لے کر غیر ملکی ایسٹ انڈیاکا ساتھ د یا تھا اور پیشوا کی 25,000 کی فوج کو شکست دی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ برطانیہ میں ذات پات یوی طرح موجود ہے جہاں پر ٹیکسی ڈرائیور دلت نوجوانوں کو لیجانے سے انکار کردیتا ہے، کےئرر ورکر دلت بزرگوں کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیتے ہیں، اسکولوں میں دلت بچوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ اور یہ سب آج کی اس دنیا میں برطانیہ میں ہو رہا ہے۔

ذات کے خلاف لڑائی کو مذہب پر حملہ تصور کرنے والوں کے خدشات کو دور کرتے ہوئے اپرانتی نے کہا ، ’’ذاتی واد میں یقین رکھنے والوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور اس بہانے اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے وہ مذہب سمیت ہر طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا شکار ہونے والوں کا مقصد صرف انصاف کا حصول ہے۔‘‘

اپرانتی نے بتایا کہ برطانیہ میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں جب ٹیکسی ڈرائیور نے نچلی ذات والوں کو لیجانے سے انکار کردیا، کےئرر ورکرز نے ضعیف دلت خواتین کو چھونے سے انکار کردیا، بچوں کو اسکولوں میں ان کی ذات کی وجہ سے ڈرایا اور دھمکایا گیا اور کام پر ساتھیوں نے دلتوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا کر رکھ دیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماڈرن انڈین اسٹڈیز کے استاد جارج کنتھ نے بتایا کہ وہ بہار میں دلتوں کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان پر ہونے والی ناانصافیوں کواپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برصغیر ہندو پاک میں ذات پات مختلف شکلوں میں ہر جگہ اور عیسائیت اور اسلام میں بھی موجود ہے۔

تقاریر کے بعد میں نے جارج کنتھ کو بتایا کہ مسلمانوں میں ذات پات ضرور موجود ہے مگر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو اسلامی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے مجھ سے اتفاق کر لیا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ قیامت کے روز اس خطے کے مسلمان اﷲ تعالیٰ کے دربار میں کیا جواب دیں گے جنہوں نے نہ یہ کہ اس سسٹم کو گلے لگالیا بلکہ اسلام کو رو سے اس کو جائز قرار دینے میں بھی جھجک محسوس نہیں کی۔ جس قوم کے نبیﷺ نے اپنے آخری خطبے میں نسلی مساوات پر تاریخ انسانی کا جامع ترین اور مختصر ترین منشور یہ کہہ کر پیش کر دیا تھا ،’’کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر ، کسی کالے کو کسی گورے پر فوقیت حاصل نہیں۔ تمام انسان آدم کا اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے‘‘ اس نبی کا اتباع کرنے کے کے دعویداروں اس کے لائے ہوئے دین کو کس طرح بدنام کیا ہے۔سوچئے کہ چند تاجر انڈونیشیا میں پہنچتے ہیں اور انڈونیشیا ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے علاقے کو اپنے اخلاق اور کردارسے ایسا متاثر کرتے ہیں کہ آج پورا علاقہ مسلمان ہے مگر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں پر مسلمانوں نے کئی سو سال حکومت کی وہاں اسلام کے خلاف سب سے زیادہ نفرت اور سب سے زیادہ غلط فہمیاں موجود ہیں۔اگر ذات پات کی بنیاد پر ظلم کی چکی میں پسنے والی اکثریت کے ساتھ صرف انسانوں جیسا سلوک ہو جاتا تو آج پورے خطے کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ مگر یہاں تو دین کا معلوم نہیں کیا مطلب لیا گیا۔ میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں جو بہت سے دوستوں کو بہت بری لگی تھی اور دوبارہ لکھنے پر مجبور ہوں۔ اس وقت برطانیہ میں دلت تنظیمیں پوری طرح محرک ہیں اور اپنی قوم پرہونے والے ظلم کے خلاف مستقل آواز اٹھا رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال آپ نے اوپر پڑھ لی ۔ مگر کیا آپ نے گزشتہ تین چار سال میں کبھی یہ خبر پڑھی ہے کہ برطانیہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے اپنے بھائیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھی ہو؟ وہ تو بیچارے چلے لگا کر، عرسوں میں شرکت کر کے یا دعوتی کام کر کے ثواب دارین حاصل کر رہے ہیں اور آپ کے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔ یہ اس قوم کا حال ہے جس کا نبی ﷺ پہلے تلوار لے میدان جنگ میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں پہنچ کر اپنے آقا سے کامیابی کی دعا کرتا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: