برطانیہ میں ایک اور  مخلص و فعال  عالمِ دین چل بسے

محمد غزالی خان

برطانیہ میں معروف عالمِ دین مولانا عیسیٰ منصوری صاحب کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا مرحوم نہایت مخلص اور فعال علما ء میں سے ایک تھے۔ وہ برطانیہ تبلیغی سلسلے میں آئے تھے اور طویل عرصے تک تبلیغی جماعت کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ مگر دین اور دنیا کو الگ کرنے کے سخت مخالف ان جیسی شخصیت کا پتا نہیں، تبلیغی جماعت کے ساتھ کس طرح نباہ ہوتا تھا، جس پر وہ کھل کر تنقید بھی کرتے تھے۔ تبلیغی جماعت کی بہت سی باتوں ہی سے نہیں، وہ نئے نئے اور بڑے بڑے مدارس بنائے جانے کے بھی سخت خلاف ہوگئے تھے اور برملا کہتے تھے کہ اب کالج اور یونیورسٹیاں بنانے کا وقت ہے۔ وہ بے صلاحیت علما ء کی کھیپ کی کھیپ تیار کرنے کے سخت خلاف تھے اور کہتے تھے کہ مدرسے خواہ کم ہوں، مگر وہاں سے صاحبِ علم اور باصلاحیت فارغین نکلنے چاہئیں۔

مولانا عیسیٰ منصوری کا مطالعہ بھی بہت وسیع تھا اور خود کئی کتابوں کے مصنف تھے، جن میں سے بہت سی عام دینی مسائل سے ہٹ کر امتِ مسلمہ کے مسائل پر ہیں۔

سن 2000 میں جب بی جے پی کے وزیراعلیٰ رام پرکاش گپتا نے UP Hindu Religious Places (Prevention of Misuse) Act 1962 کی جگہ UP Religious Places Bill لانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اقلیتوں کے لیے ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات پر معمولی سی ترمیم و تعمیر کرنا بھی محال ہوجاتا، لندن کی انڈین مسلم فیڈریشن نے اس فسطائیت کے خلاف ایک دستخطی مہم شروع کی، جس میں برطانیہ بھر سے تیرہ ہزار دستخط کروا کر ایک پٹیشن ہندوستانی سفیر نریشور دیال کو دی گئی تھی۔ یہ مہم مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی مرحوم کی تجویز کے بعد شروع کی گئی تھی، جس کی کامیابی کے لیے انہوں نے بیماری اور ضعف کے عالم میں دور دراز کا سفر کرکے مساجد میں جا جا کر اس پٹیشن پر دستخط کروائے۔ اس مہم میں مولانا عیسیٰ منصوری بھی مولانا عتیق صاحب کے ساتھ ساتھ رہے۔ لیسٹر کی مختلف مساجد کے ایک سفر اور مختلف مساجد کے ایک دورے پر میں خود ان دونوں حضرات کے ساتھ شامل تھا۔ جس دردمندی کے ساتھ میں نے ان دونوں کو اس مہم میں قریب سے کام کرتے دیکھا، اس سے میں ان کے خلوص کا مزید قائل ہوگیا۔

کوئی بھی شخص کتنا بھی نیک ہو، بشری کمزوریوں سے پاک نہیں۔ مولانا مرحوم کے انتہائی خلوص کے باوجود ان کی ایک خوبی، جو ان کی بڑی کمزوری بھی تھی، ’’یاروں کے یار‘‘ والی تھی۔ جس سے وہ خوش ہوجاتے، اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار رہتے اور کوئی ناپسند ہوجائے تو پھر اس سے کسی بھی طرح کا رابطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے مولانا کو خود بھی کئی مرتبہ نقصان ہوا اور ان کی اس خوبی یا خامی کا شکار میں بھی ہوا۔

سن دو ہزار تک مولانا مرحوم، ظفر سریش والا کے زبردست مداح تھے۔ گجرات مسلم کش فسادات کے بعد ایک وقت تک شدید مودی مخالفت کے بعد ظفر سریش والا نے اپنا قبلہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور مولانا مرحوم کو یقین دلادیا تھا کہ مودی سے ہاتھ ملا کر ہی مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جب مجھے اس کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے مولانا کو فون کیا۔ ان کی اور میری جو گفتگو ہوئی، اس کی مکمل رپورٹ میں نے ملی گزٹ میں شائع کروادی۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے رپورٹ کے ایک اقتباس کا ترجمہ من و عن پیش کردینا بہتر ہوگا:

’’جب میں نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے خدشات کا اظہار کیا تو مولانا نے غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا: ’کمیونٹی کون ہوتی ہے ہمیں مشورہ دینے والی؟‘ مولانا کا اصرار تھا کہ وہ مودی سے اس لیے ملنے گئے تھے تاکہ گجرات میں مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔ مولانا اور سریش والا، جو دونوں قریبی دوست ہیں، اپنی اس ملاقات کا جواز بھی اسی دلیل کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔ مولانا کے بارے میں یہ شہرت ہے کہ وہ نیک دل انسان ہیں، لیکن ان کے خیالات میں سادگی اور ناپختگی پائی جاتی ہے اور وہ کسی ایسے شخص سے باآسانی متاثر ہو جاتے ہیں جسے وہ پسند کرنے لگیں۔ مودی سے ملاقات سے قبل سریش والا انہیں پوری طرح اپنے خیالات کے زیرِ اثر لا چکے تھے۔ مسٹر سریش والا نے تو ان کے سامنے مودی کا ایک انسان دوست چہرہ بھی پیش کیا تھا۔ ان کے بقول، مودی نے ایک ایسے مدرسے میں محصور مسلمان بچوں کو بچایا تھا جسے ہندو بلوائیوں نے گھیر رکھا تھا۔‘‘

اس رپورٹ کے بعد مولانا مجھ سے سخت نالاں ہوگئے اور مولانا عتیق الرحمٰن سمیت کئی دیگر ذمہ داران کو بھی خط لکھا۔ مجھے اس کی بھنک پڑی تو میں نے مولانا عتیق صاحب کو فون کیا اور حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ مرحوم نے اس بات کی تو تصدیق کردی کہ انہیں بھی خط ملا ہے، مگر یہ بتانے سے انکار کردیا کہ اس میں میرے تعلق سے کیا لکھا گیا تھا۔ بہرحال، اس خط کے مندرجات پر سخت برہمی کے اظہار کے باعث مولانا  منصوری نے اپنے پرانے دوست سے بھی رابطہ ختم کرلیا۔

مگر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ مولانا کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ میرے دوست اور کونسل آف انڈین مسلمز کے چیئرمین مناف زینا صاحب نے مولانا سے فون پر بات کی اور ملاقات کے لیے وقت لیا۔ جب ہم مولانا کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا: ’’مجھے آپ لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرنا۔‘‘ اس پر میں نے عرض کیا کہ ’’مولانا، ایسی کوئی درخواست لے کر ہم بھی حاضر نہیں ہوئے ہیں، کیونکہ مودی کے ساتھ آپ کی ملاقات کے بعد غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ آپ کے پاس آنے کا ہمارا مقصد صرف ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔‘‘

خیر، بات چیت ہوئی اور مولانا کے ساتھ ایک مختصر سا انٹرویو بھی ریکارڈ کرلیا گیا۔ بہرحال، اس ملاقات کے بعد مولانا سے میرے تعلقات بحال ہوگئے۔ اس سے پہلے ان کے ساتھ ملاقاتیں اکثر میٹنگوں یا تقریبات میں ہوجایا کرتی تھیں، مگر خرابیِ صحت کے باعث ان کا کہیں آنا جانا بہت کم ہوگیا تھا، اس لیے ان سے ملاقاتیں بھی بہت کم ہوپائیں۔ البتہ فون پر اکثر طویل گفتگو ہوجایا کرتی تھی۔ مگر کافی عرصے سے یہ سلسلہ بھی بند تھا۔ آخری مرتبہ جب بات ہوئی تھی تو مولانا ہمیشہ کی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات سے پریشان اور فکر مند تھے۔ آج اچانک ان کے انتقال کی خبر سے بہت افسوس ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلوص کے ساتھ ساتھ ان میں ایک معصومیت بھی تھی۔

اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمات قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لغزشیں معاف فرمائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.