سر مارک ٹیلی (24 اکتوبر 1935 –  25 جنوری 2026)

mark tully2

محمد غزالی خان

بی بی سی کے سابق نامور صحافی سر مارک ٹیلی کا 25 جنوری کو انتقال ہوگیا جہاں انہیں نذر آتش کردیا گیا ہے۔

یاد نہیں سات آٹھ سال کی عمر میں خبریں کس حد تک سمجھ میں آتی ہوں گی، البتہ اتنا یاد ہے کہ دادا مرحوم، چچا مرحوم (للہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے) اور والد صاحب( اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور زندگی سے نوازے) اور خاندان کے دیگر بزرگ شام کے وقت ریڈیو پر بی بی سی اردو سروس کی خبریں ایک ساتھ سنا کرتے تھے۔ جہاں تک یاد ہے، خبروں کے علاوہ حالاتِ حاضرہ پر اس کا پروگرام ’سیر بین‘ بہت مقبول تھا، جس میں استعمال کیا گیا یہ جملہ اب بھی یاد ہے: ’دہلی سے مارک ٹیلی کا مراسلہ‘۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک طویل عرصے تک جنوبی ایشیا میں مارک ٹیلی اور بی بی سی ایک دوسرے کی شناخت بنے رہے۔ ان دونوں پر کتنا اعتماد کیا جاتا تھا، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارک ٹیلی نے اپنی کتاب Amritsar: Mrs Gandhi’s Last Battle میں لکھا ہے کہ 1985 میں جب اندرا گاندھی کا قتل ہوا تو ان کے بیٹے راجیو گاندھی مغربی بنگال کے دورے پر تھے۔ جب انہیں یہ خبر ملی تو اس کی تصدیق کے لیے سب سے پہلے انہوں نے ٹرانزسٹر ریڈیو پر بی بی سی آن کیا۔

مارک ٹیلی دنیائے صحافت میں یقیناً ایک بڑا نام تھے، مگر پتہ نہیں کیوں مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا ہے کہ ہندوستان سے کی گئی ان کی رپورٹنگ میں مسلمانوں کے تعلق سے وہی رنگ نظر آتا تھا جو اس وقت کے ہندوستانی مین اسٹریم میڈیا کا تھا۔ اس زمانے میں صحافت میں اندھ بھکت یا تو داخل نہیں ہوئے تھے، یا پھر حکومتِ وقت کی طرح اپنی نفرت کا اظہار کھل کر نہیں کرتے تھے۔ البتہ خبروں کا رخ نہایت بڑی شائستگی کے ساتھ یکطرفہ ہوتا تھا۔

اس دور کے اور واقعات تو یاد نہیں، البتہ یہ یاد ہے کہ شاہ بانو کیس کے بعد دہلی میں کیے گئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے مظاہرے کے شرکا کی تعداد اتنی کم بتائی گئی تھی کہ اکثر اردو اخبارات نے اس پر سخت تنقید کی تھی۔ (اس تحریک اور اس مظاہرے کی ملت کو جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، وہ ایک الگ بحث ہے۔)

دوسرا واقعہ 1986 میں بابری مسجد کو پوجا کے لیے کھولے جانے کا ہے۔ بی بی سی ورلڈ سروس کی خبروں میں صبح سے شام تک مسلمانوں کے احتجاج کے بارے میں یہی بتایا جاتا رہا کہ مسلمان ایک ہندو مندر کو دوبارہ کھولے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس پر مجھ سمیت متعدد دوستوں نے بی بی سی کو فون کیے تھے۔ جب میں نے نیوز ایڈیٹر سے بات کی اور اسے بتایا کہ جو کچھ ان کی خبروں میں کہا جا رہا ہے وہ جھوٹ اور غلط بیانی ہے، تو اس نے مجھ سے پوچھا: ’پھر ہمیں کیا کہنا چاہیے؟‘ میں نے کہا کہ جس مسجد کو پوجا کے لئے کھولا گیا ہے وہ ایک تاریخی مسجد ہے مگر آپ اپنی معروضیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اسے ’متنازعہ عمارت‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس پر اس نے اتفاق کیا، اور آخری بلیٹن میں جملہ تبدیل کر کے اگلے بلیٹن کے بعد خبر ہی گول کر دی۔

موت برحق ہے اور ایک نہ ایک دن اس دنیا سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہی ہے۔ مگر پتہ نہیں کیوں معروف لوگوں پر لکھی گئی تعزیتی تحریریں صرف تعریف سے بھری ہوتی ہیں۔ کسی کی ذاتی زندگی اس کے اپنے معاملات ہوتے ہیں جن کا ذکر بھی نہیں ہونا چاہئے مگر جن شخصیات نے کسی ملک، خطے یا ادارے کے بنانے یا اس کی تاریخ لکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کوتاہی کا ذکر کیا جانا بھی ضروری ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.