یوم جمہوریہ سے ایک روز قبل ’کس کا جمہوریہ‘ پر سمینار

migra workers 2
محمد غزالی خان
لندن: ہندوستان میں اس وقت مغربی بنگال سے محنت مزدوری کے لیے دیگر ریاستوں میں گئے ہوئے مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف سخت امتیاز برتا جارہا ہے۔
یہ انکشافات ہندوتوا دہشت گردوں اور مرکزی اور صوبائی حکومت کے ستائے ہوئے متعدد افراد، اور ان کی مدد کرنے والے سماجی کارکنوں اور وکلا نے ایک ویب سیمینار میں کیے ہیں۔ یہ ویب سیمینار لندن کی انسانی حقوق کی تنظیم ساؤتھ ایشیا سالیڈیریٹی گروپ کے زیرِ اہتمام آج ہندوتان بھر میں منائے جارہے یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے ایک روز قبل ’Whose Republic?‘ (کس کا جمہوریہ) کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا۔
سیمینار کے شرکاء میں مائیگرینٹ ورکرز یونٹی فورم کے عہدیدار آصف فاروق، سی پی آئی مغربی بنگال کے مُلے تیواری، مائیگرینٹ سالیڈیریٹی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے اور ہندوستانی سپریم کورٹ کے معروف وکیل ایڈووکیٹ مداری کاکوتی، نیز ممبئی اور دیگر ریاستوں میں کام کرنے والے مزدور شامل تھے۔ ان مزدوروں نے اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی بنگال کے مزدوروں کو پولیس اور ہندوتوا عناصر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر مسلسل ہراساں کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہندوستانی شہریت کے تمام ثبوت موجود ہونے کے باوجود بعض افراد کو ملک بدر کر کے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ ایک خاتون کو سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد واپس لایا جا سکا۔
مزدوروں نے بتایا کہ بے روزگاری کے باعث مغربی بنگال سے نقل مکانی ان کے لیے ناگزیر ہو جاتی ہے، اور ایک مرتبہ وہاں سے نکل جانے کے بعد غربت اور کرایے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے واپس جانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.