جدید ہندوستان کے مسلمانوں کی تشکیل اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی

نام کتاب: The Making of Modern Indian Muslims: Aligarh Muslim University

مصنف: محمد وجیہہ الدین

تبصرہ: محمد غزالی خان

صفحات: 216

قیمت: 13.99£

ناشر:HarperCollins Publishers India

معروف صحافی، ٹائمز آف انڈیا کے سینئراسسٹینٹ ایڈیٹر اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمد وجیہہ الدین صاحب کی تحریر کردہ یہ کتاب ان کی مادر علمی کی مختصر تاریخ اورمسلمانان ہند پراس کے اثرات پر ایک عمدہ  کتاب ہے۔

کتاب لکھنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ یہ کتاب: ’سرسید کی تحریک،  ان کے کالج جو بعد میں یونیورسٹی بنی  اور مسلمانان ہند پراس کے اثر کو سمجھنے کی ایک سعی ہے۔‘

سابق صدرجمہوریہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور طالب علم ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کا قول نقل کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے: ’مختلف شعبہ ہائے زندگی میں علیگڑھ جس انداز میں شرکت کرے گا اسی کی بنیاد پر قومی زندگی میں مسلمانان ہند کے مقام کا فیصلہ ہوگا۔ جوبرتاؤ ہندوستان علیگڑھ کے ساتھ کرے گا بڑی حد تک اسی کی بنیاد پراس بات کا تعین ہوگا کہ مستقبل میں ہماری قومی زندگی کیا شکل اختیارکرے گی۔‘

ذاکرصاحب مرحوم کا یہ قول کیسی بڑی صداقت ثابت ہوا ہے اس کا اندازہ  آزادی کے فوراً بعد اس ادارے کے ساتھ حکومت کے سوتیلے پن کے رویے  اور بتدریج  ملت کو کونے سے لگائے جانے سے  لگایا جا سکتا ہے۔

علیگڑھ کے سابق طالب علم اور استاد پروفیسر ہاشم قدوائی صاحب مرحوم کو مصنف نے یوں نقل کیا ہے: ’قومی قائدین کا ایک کہکشاں علی برادران، (محمد علی اور شوکت علی) ڈاکٹر سیف الدین کچلو، اے ایم خواجہ، ڈاکٹرسید محمود، رفیع احمد قدوائی، حسرت موہانی، خان عبدالغفارخان، ٹی اے کے شیروانی، ظفرعلی خان، راجہ صاحب مہیندرپرتاپ سنگھ، ڈاکٹر سید حسین، چودھری خلیق الزماں، یاسین نوری اور حافظ محمد ابراہیم یہ سب ایم اے او کالج کے فارغین تھے۔‘

ان کے علاوہ بھی فرزندان علیگڑھ کی لمبی فہرست ہے جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نام پیدا کیا۔ مسلمانان ہند ہی نہیں پورے برصغیر میں اس ادارے کے اثرکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  1965 میں ایک ہی  وقت میں ہندوستان اور پاکستان کے صدور (ذاکر حسین خان اور ایوب خان) اسی ادارے کے  تعلیم یافتہ تھے۔

یہ بات توعام طورپرسب ہی کو معلوم ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ علیگڑھ کے بطن سے پیدا ہوئی مگر مصنف نے کتاب میں یہ اہم معلومات بھی فراہم کی ہیں کہ حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں بھی علیگڑھ کے دوبڑے فرزندان، بابائے اردو مولوی عبدالحق اور سرراس مسعود، کے بہت اہم کردار رہے ہیں۔ مصنف نے کتاب میں بتایا ہے کہ جب عثمانیہ یونیورسٹی کے لئے منظوری نہیں مل رہی تھی تو ایک دن مولوی عبدالحق نے راس مسعود صاحب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے لئے حکومت سے اجازت لے کر ثابت کریں کہ آپ سرسید کے پوتے ہیں۔  راس مسعود صاحب نے چیلنج قبول کرلیا اور وہ برطانوی ریزیڈینٹ کے یہاں اس کی کوٹھی ریزیڈینسی پرپہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے ریزیڈینٹ کے بچوں کے ساتھ فرانسیسی زبان میں بات کرنا شروع کردی۔ ریزیڈینٹ نے راس مسعود صاحب سے کہا کہ وہ خود ان کے ساتھ فرانسیسی زبان میں بات کرسکتے ہیں مگر بچوں کو اپنی مادری زبان، انگریزی، میں بات کرنا آسان لگتا ہے۔ اس کا جواب مسعود صاحب نے یہ دیا کہ: ’جس طرح آپ کے بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ہم بھی مسلمان بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دینا چاہتے ہیں… جب وہ بڑے ہوں گے تو انگریزی ، فرانسیسی یا کوئی بھی  دیگر  زبان سیکھ لیں گے جو انہیں اچھی لگے گی۔‘ اور اس طرح راس مسعود صاحب نے ریزیڈینٹ کو یونیورسٹی کی اہمیت اور ضرورت  کا قائل کرلیا اور متعلقہ کاغذات پر دستخط کروانے میں کامیاب ہوگئے۔

وجیہہ الدین صاحب نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے بانی کے خلاف ہندوتوا وادیوں کے پروپیگنڈے کا جواب دینے میں بڑی محنت کی ہے۔ اس ضمن میں وہ ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ سرسید کے پوتے راس مسعود صاحب کی رسم بسم اللہ کے موقع پرانہیں سرسید کے دوست راجہ جے کشن کی گود میں بیٹھایا گیا جبکہ اس رسم میں بچے کو خاندان کے کسی بزرگ کی گود میں بیٹھایا جاتا ہے۔ اس موقع پرسرسید نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: ’میری قوم کو اس وقت سخت حالات کا سامنا ہے۔ جب راس مسعود پیدا ہوئے تو مسٹر اور مسز راس [انگریز میاں بیوی جو سرسید کے فرزند سید محمود صاحب کے انگلینڈ میں زمانہ طالب علمی سے  نزدیکی دوست تھے اوراس تقریب میں بھی موجود تھے] نومولود بچے کو اپنا نام دیا اور وہ راس مسعود بن گیا۔ راجہ جے کشن داس میرے بھائی ہیں۔ سید محمود انہیں چاچا کہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور راس مسعود انہیں دادی راجہ کہتے ہیں۔ میں اپنے سب دوستوں سے محبت کرتا ہوں اوران میں تفریق نہیں کرتا۔‘

وجیہہ الدین صاحب 1990 (جب علیگڑھ میں معیارگرنے کی  ابتدا ہوئی) سے پہلے کے تمام فارغین کی طرح اپنی مادر علمی کے گرتے ہوئے معیارپر مضطرب ہیں  اور بے چین ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں: ’علیگڑھ کے طالب علموں اور طالبات کی عام تصویراب دھندلی ہونے لگی ہے۔ یہ تبدیلی ان کے لباس سے متعلق [خیالات میں] ہی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ [بحیثیت مجموعی] جو کچھ اس کے بارے میں سوچا جاتا ہے اس میں بھی فرق آیا ہے۔ گزشتہ صدی کی کئی دہائیوں تک اے ایم یو مسلم سیاست کا گڑھ اورفکرو دانش کا مرکزرہی ہے۔‘ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے  پروفیسر ایمیریٹس، مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر اورعلیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبا تنظیم کے سابق معتمد اعزازی اخترالواسع صاحب کونقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’یہ تمام مسلم دنیا میں  مسلمان دانشوروں کا مرکزہے۔ دنیا میں کہیں بھی آپ کو کہیں بھی پڑھے لکھے مسلمانوں کا ایک ہی جگہ اتنا بڑا اجتماع نہیں ملے گا۔‘

مصنف کے ساتھ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ گروپوں پر شناسائی اور تبادلہ خیالات کی بنیاد پرمجھے اس کا اندازہ ہے کہ سن 1947 سے پہلے اور بعد کی کچھ مسلمان شخصیات انہیں سخت نا پسند ہیں۔ پھربھی کتاب میں انہوں نے ان سب کے تئیں ایمانداری اورغیرجانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کا ذکرآتے ہی وہ اپنی ناپسندیدگی پرقابو نہیں رکھ پائے۔ پاکستان کے معروف اردو مصنف اوربیوروکریٹ اور علیگڑھ کے سابق طالب علم مختارمسعود صاحب کو انہوں نے جناحؒ کا ’ایک بے غیرت مداح‘ بتایا ہے اور شکایت کی ہے کہ انہوں نے، ’کسی بھی مقام پر اپنے ہیرو [جناح] کے خزیرکے گوشت اور شراب سے عشق کا ذکرنہیں کیا۔‘

ویسے وجیہہ الدین صاحب، اس وقت کے مسلمان قائدین میں اورکس کس کو شراب کا شوق تھا آپ اس سے ناواقف تو نہیں ہوں گے۔ مزید تصدیق کے لئے مولانا عبدالماجد دریابادی کے آپ بیتی پڑھ لیجئے جس میں بڑے محتاط انداز میں انہوں نے بہت کچھ بتایا ہے۔

وجیہہ الدین صاحب ان لوگوں میں نہیں ہیں جنہیں اس بات کا علم نہ ہو کہ پاکستان سمیت علیگڑھ کے طالب علم اور اس کے چاہنے والے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خود ہی تو لکھا ہے کہ: ’آپ کسی علیگ کو علیگڑھ سے تو نکال سکتے ہیں مگر اس کے اندرسے علیگڑھ کو نہیں نکال سکتے۔‘ انہوں نے اس کی کئی مثالیں دی ہیں جن میں سب سے زیادہ متاثرکن اوراثرانگیزواقعہ امریکہ میں مقیم سابقہ طالبہ ڈاکٹر افشاں ہاشمی کا ہے جنہوں نے یوم سرسید کے موقع پر طلبائے علیگڑھ کے ایک اجتماع کے دوران ویڈیو کانفرنس میں اپنی شادی کے زیورات نیلامی کے لئے رکھے تھے اوراس کی قیمت 6.5 لاکھ روپئے لگائی تھی۔ ممبئی میں طلبائے قدیم کے جنرل سیکریٹری رئیس احمد، جو پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے مواقعوں پرغیرمعمولی فراخدلی کا مظاہرہ کرچکے تھے، نے 11 لاکھ روپئے میں یہ زیورخرید کر یونیورسٹی کو عطیہ کے طور   پردے دیا۔ وجیہہ الدین کے ان سے اس بارے میں سوال کئے جانے پر انہوں نے کہا: ’کسی بھی شادی شدہ عورت کے لئے شادی کا زیورسب سے قیمتی شے ہوتا ہے۔ یہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو بہت بڑے جزبے اوراحساسات کے ساتھ بطورعطیہ دیا گیا تھا۔ جذبات اوراحساسات آپ کیسے خرید سکتے ہیں؟ بھلا میں زیورکا کیا کرتا؟ میں نےیہ یونیورسٹی کو عطیہ دے دیا۔‘ اس نیلامی میں ایک پاکستانی شہری برگیڈئیر(ریٹائرڈ) محمد شفیع بھی شریک تھے۔ انہوں نے ایک ہزارڈالرکا عطیہ دیا۔

اچھا ہوتا اگر وجیہہ الدین صاحب اپنے جناح مخالف جذبات  کسی دوسرے موقع کے لئے چھوڑدیتے یا کسی دوسری کتاب میں اپنے جذبات کا اظہارکرلیتے۔ مگر بدقسمتی سے انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئے مصنف اور سابق رکن پارلیمنٹ اور اپنے معذرت خواہانہ رویے کے لئے معروف مرحوم رفیق زکریا صاحب کا انتخاب کیا اوران کی تحریرکے حوالے اور اقتباسات پیش کئے ہیں جنہوں نے جناح صاحب مرحوم کی تذلیل اورکردارکشی کے لئے نڈراور بے باک شخصیت مولانا حسرت موہانیؒ کا سہارا لیا ہے۔ اور اس حوالے کا ذکرکرکے وجیہہ الدین صاحب نے بھی اسی غلطی کو دوہرایا ہے ۔

رفیق زکریا مرحوم کے بقول ایک دن مولانا حسرت موہانی جناح صاحب کے گھرپر بغیروقت لئے پہنچ گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو جناح صاحب شراب نوش فرمارہے تھے جسے دیکھ کرمولانا کے چہرے پر ناگورای کے آثارنمودار ہوگئے۔ جناح صاحب نے مولانا کی ناگواری دیکھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کہ وہ بھی ’ممنوعہ شے کا ذائقہ چکھنا چاہیں گے؟‘

جناحؒ وقت کی پابندی کے لئے بدنامی اور بدلحاظی کی حد تک مشہورتھے۔ لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ مولانا کو یہ بات معلوم نہ ہو اور وہ بغیروقت لئے چلے گئے ہیں۔ اور اگرانہوں نے ایسا کیا بھی ہوگا تو جناح صاحب ان سے ملے ہی نہیں ہوں گے۔ اگرمولانا کے مقام کا لحاظ کرکے جناح صاحب ملنے کے لئے تیارہوبھی گئے ہوں گے تو یہ ممکن نہیں کہ مولانا حسرت موہانی جیسا شخص ایک مسلمان کو شراب نوشی کرتے دیکھ کرخاموش رہ گیا ہو اورشراب پیش کرکے ذلیل کئے جانے پراحمقوں کی طرح خاموشی سے واپس چلاآجائے۔رفیق ذکریا صاحب اور ان کوحوالہ بنا کر وجیہ الدین صاحب نے جناح صاحب کی کردار کشی  کرنے کی کوشش تو کی ہی مگر ساتھ میں  مولانا حسرت موہانی جیسے جری شخص کو بھی مصلحت پسند  یا بزدل بناڈالا۔

وجیہہ الدین نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ، اس کے خلاف میڈیا کی متعصبانہ روش ، مسلمانوں پر جارحانہ حملے، تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی ،  جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شہری ترمیمی بل کے خلاف  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علموں کی ذریعے چلائی گئی تحریک سے متعلق بہت قیمتی اورانوکھی معلومات جمع کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری ترمیمی بل کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ بلکہ تلواراب بھی سروں پرلٹکی ہوئی ہے۔

مادر علمی کے گرتے ہوئے معیار پروجیہہ الدین کی تکلیف بالکل نمایاں ہے۔ انہوں ے طلبائے علیگڑھ کے نام کتاب میں الگ سے ایک باب شامل کیا ہے جس میں انہیں بہت سے قیمتی مشورے دیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’آج علیگڑھ ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ اس کے اقلیتی کردار پرتلوارلٹکی ہوئی ہے جس پر سپریم کورٹ کا فیصلے کا انتظارکیا جارہا ہے … حالانکہ کرونا وائرس کی وجہ سے  سی اے اے۔این آرسی کی مخالفت پس پشت چلی گئی ہے مگر غائب نہیں ہوئی ہے۔ جیسے ہی مرکز شہری ترمیمی بل کا اطلاق کرے گا، ہوسکتا ہے کہ علیگڑھ کے طلبا پولیس کی اس سفاکیت پرخاموش نہ رہ سکیں جس کا مظاہرہ پولیس نے یونیورسٹی میں 15 دسمبر 2019 کو کیا تھا۔ جس میں بہت سے طلبا کوشدید چوٹیں آئی تھیں۔‘  پولیس کے ان مظالم کا ذکرکرتے ہوئے وجیہہ الدین صاحب، ادارے کے تئیں ملت کی عدم دلچسپی پرآنسو بہاتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’اس مرتبہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں پولیس کی زیادتیوں کے خلاف دہلی کی سڑکوں پراحتجاج کرنے اورگرفتاری پیش کرنے کے لئے وہاں پٹنہ کے ڈاکٹرسید محمود، لکھنؤ کے ڈاکٹر فریدی یا شہاب الدین موجود نہیں تھے۔‘

اس تبصرہ نگار کی زمانہ طالب علمی (1974 -1983) کے دوران جب کبھی بھی یونیورسٹی میں کوئی مسئلہ پیش آجاتا تھا تو طلبائے قدیم، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت یا ملت کے دیگر اکابر مسئلے کو حل کروانے کے لئے کیمپس میں موجود ہوتے تھے۔ مگر اس قحط الرجال میں جس طرح یونیورسٹی کو لاوارثوں کی طرح انتظامیہ کے ہاتھوں  اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لئے چھوڑدیا گیا ہے، وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔  میں جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں موجودہ وائس چانسلر، جن کی حکومت نوازی سے طلبا سخت ناراض ہیں اور ان   کی مدت ملازمت  میں توسیع کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے  تین طالب علموں کو یونیورسٹی کی دیواروں وائس چانسلر مخالف نعرے لکھنے کی پاداش میں تین طالب علموں کو وجہ بتاؤ جاری کردیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس میں جب سر راس مسعود نے بحیثیت وائس چانسلر مستعفی ہونے کا ارادہ کیا تو علامہ اقبال سمیت یونیورسٹی کے بہت سے ہمدردان حرکت میں آگئے تھے اور راس مسعود کو اپنے فیصلہ بدلنے پرآمادہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے طلبا اس سے ناراض ہوئے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی  دانش گاہ قائم کردی۔

یہ کتاب لکھنے کے لئے وجیہہ الدین صاحب قابل مبارکباد ہیں جسے مسلمانان ہند کی سیاست، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور علیگڑھ تحریک، تقسیم ہند میں دلچسپی رکھنے والوں اورخاص طورپر جامعہ اور اے ایم یو کے وائس چانسلروں کو لازماً پڑھنی چاہئے جو ان دو اداروں کی تاریخ اور ان کے لئے مسلمانوں کی قربانیوں کی تاریخ سے بالکل نابلد معلوم ہوتے ہیں۔ 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: