اصل ہندوستان جوکہیں گم ہوگیا

محمد غزالی خان

گزشتہ ماہ، فروری میں، میں ہندوستان میں اپنے آبائی قصبے دیوبند میں تھا۔ حسب معمول ایک روز نمازظہرکے لئے گھرسے نکل رہا تھا۔ میرے برادرخورد بابرخان مجھ سے پہلے مسجد جانے کے لئے روانہ ہو چکے تھے۔ انہیں بیرونی گیٹ کھول کر گھرکے احاطے میں واپس داخل ہوتے دیکھ کر میں تعجب میں پڑگیا کیونکہ ان کے ساتھ با وردی ایس ایچ او (اسٹیشن ہاؤس آفیسر) سمیت کئی پولیس اہلکاراور سادہ کپڑوں میں تین خواتین اوردو مرد بھی تھے۔

میں آگے بڑھا توبابرنے بتایا: ’بھائی جان یہ لوگ سن 65 میں ہمارے محلے میں کسی بابوخان کے مکان میں رہتے تھے۔‘ میں یہ کہنے ہی والا تھا کہ یا تو وہ سن غلط بتارہے ہیں یا انہیں مکان کے تعین میں مغالطہ ہورہا ہے کہ اسی وقت خواتین میں سے ایک نے ہمارے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’اِس گھر میں غزالی اور کمالی نام کے دو بھائی رہتے تھے۔‘

’میں ہی غزالی ہوں ‘ کہہ کر جیسے ہی میں نے انہیں اندرآنے کی دعوت دی تو اسی لمحے سادہ لباس والے مردوں میں سے ایک صاحب آگے بڑھے اور کہا: ’میرا نام راجیو ہے۔ میرے والد دیوبند میں ایس ایچ او ہوا کرتے تھے۔‘

’راجیو‘ نام سنتے ہی میرے دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ بچپن کی یادوں کا ویڈیو کا سوئچ آن ہوگیا اور بے ساختہ طور پر میں نے جواب دیا: ’مجھے سب یاد ہے۔‘

میرا یہ کہنا تھا کہ راجیو بھائی مجھ سے لپٹ گئے اور اسطرح روئے جیسے بچپن میں کوئی سگا بھائی مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ راجیو بھائی کی عمر اُس وقت تقریباٗ گیارہ سال اور میری عمر آٹھ سال رہی ہوگی۔

راجیو بھائی ایک معروف بینک میں جنرل مینیجر کے عہدے پر فائزرہنے کے بعد اب ریٹائرہوچکے ہیں۔ ان کے برادر خورد، جو سرکاری ملازمت میں پورے ملک کے نہایت حساس شعبے کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں۔) ان کی شناخت چھپانے کی غرض سے مجھے پورے نام تک خفیہ رکھنے پڑ رہے ہیں۔(  اس کنبے کے دوسرے افراد بھی بہت اعلیٰ اورحساس عہدوں پرفائز ہیں۔

ساتھ آنے والی تین خواتین میں سے دو راجیو بھائی کی بڑی بہنیں اور تیسری خاتون چھوٹے بھائی کی اہلیہ تھیں۔ شدید خواہش کے باوجود ان کی تیسری بہن، جو مغربی یوپی کے ایک دوسرے شہر میں رہتی ہیں، ساتھ نہیں آپائی تھیں۔

یہ سب بہن بھائی 1965 میں ہمارے برابروالے گھرمیں بحیثیت کرائے داررہتے تھے جسے اب گھرمیں شامل کرلیا گیا ہے اور جس کا ایک کمرہ آؤٹ ہاؤس یا مردانے کے طورپراستعمال ہوتا ہے۔ اسی کمرے میں راجیو بھائی کے برادرخورد کی پیدائش ہوئی تھی۔جب راجیو بھائی نے اپنے برادر خورد کو یہ بتایا  کہ یہ کمرا  ہی اسکی جنم  بھومی ہے تو جذباتی مناظر دیدنی تھے۔

اس سے پہلے کہ یہ سب کمرے میں موجود صوفوں پربیٹھتے، بڑی بہنوں میں سے ایک نیلم دیدی نے میری والدہ کے بارے میں دریافت کیا اور یہ بتائے جانے پر کہ چار سال قبل ان کا انتقال ہوچکا ہے، ہمارے یہ مہمان ایسے غمزدہ نظرآئے جیسے انہیں ان کے ہی کسی عزیز کے انتقال کی خبردی گئی ہو۔ بہنیں اوربھائی والدہ  مرحومہ کی  حسن صورت اور حسن سیرت بیان کرتے نہیں تھکتے تھے۔

انہوں نے محلے میں ایک ایک شخص (محلہ قلعہ کے اس حصے کے تمام مکین ایک ہی خاندان کے لوگ ہیں)  کا نام لےلے  کرپوچھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سب بہن بھائی جب بھی اکٹھے ہوتے تو دیوبند کو بہت یاد کرتے اوربچپن کی باتیں کرتے۔ کئی سال سے یہاں آنے کی خواہش کے باوجود اس پرعمل نہ کرسکے اور بالآخر27 فروری کو انہوں نے دیوبند آنے کا پروگرام بنا ہی لیا۔ یہ بھی عجیب حسن اتفاق کہ میں بھی انہی دنو ں لندن سے آیا ہو ا تھا۔

جس گھر میں وہ رہا کرتے تھے اس کا برآمدہ باقی رہا نہ کوئی دوسرے آثار، پھر بھی وہ اتنے جذباتی ہورہے تھے کہ ایک ایک کونے کی تصویریں لے رہے تھے اور اپنے چھوٹے بھائی سے بتارہے تھے کہ ’تو اس کمرے میں پیدا ہوا تھا‘۔

کیونکہ ہمارے مہمانوں کی تصویرشئر نہیں کی جاسکتیں اسلئے اس کمرے کی تصویر شئر کررہا ہوں جس میں بیٹھ کر وہ سب نہایت جذباتی ہورہے تھے۔

خود میری یادیں بھی جاگ اٹھی تھیں اور میں نے انہیں بتایا کہ انکی بہنوں میں سے کسی ایک نے، جو ایک خوبصورت سی خاتون تھیں، میری والدہ سے قیمہ بنانا سیکھا تھا۔ میں نے قیمہ بنانا سیکھنے کا پورا منظر بھی بیان کردیا۔ معلوم ہوا کہ یہ خاتون ان کی وہ بہن تھیں جو دیوبند نہیں آپائی تھیں۔ لہٰذا انہیں بھی ویڈیو کال پراس انتہائی ڈرامائی اور جذباتی ملاقات میں شامل کرلیا گیا۔

 ہمارے مہمانوں نے دوپہرکا کھانا ہمارے ساتھ کھانے کی درخواست منظورکرلی اور ڈاک بنگلے پر کئے گئے کھانے کا اہتمام رکوادیا۔ چارگھنٹے کب اور کیسے بیت گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ دونوں بھائی روایتی قسم کے علیگیرین ہیں اور عمدہ اردو بولتے ہیں۔ چھوٹے بھائی تو باتوں میں اشعارکا بھی برمحل خوب استعمال کرتے ہیں۔

سن1965 میں جب یہ لوگ ہمارے پڑوسی ہوا کرتے تھے اس وقت ہمارے محلے میں کئی سکھ اورہندو پنجابی کنبے آباد تھے۔ تقسیم کے بعد یہ سب ان گھروں میں آکر رہنے لگے تھے جن میں تقسیم سے پہلے پٹھان رہا کرتے تھے اور اس طرح ہمارا محلہ پٹھانوں اور سکھوں کی آبادی کا عمدہ امتزاج بن گیا تھا۔ ہمارا بچپن ہندو اور سکھ بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزرا۔ دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے تھے۔ سانحۂ تقسیم کے باوجودمذہبی تعصب نام کی شئے سے کوئی واقف بھی نہیں تھا۔

جس گھر میں یہ کنبہ رہا کرتا تھا ان کے بعد اس میں ایک اور پولیس انسپیکٹر شرما جی  آکر رہے تھے۔ ان کا پورا نام تو اب یا د نہیں رہا۔ نہایت ملنسار اور گورے چٹے،   خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔   ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ۔ شاید اسی وجہ سے نفسیاتی الجھن کا شکاررہے ہوں۔ ان میں ایک بڑی برائی یہ تھی کہ رات گئے گھر میں نشے کی حالت میں داخل ہوتے اور اپنی اہلیہ پر تشدد کرتے، جو خود نہایت شریف النفس خاتون تھیں۔ ایک دن وہ روتی ہوئی میرے دادی محترمہ کے پاس آئیں اور اپنے شوہر کے اس رویے کی شکایت کی۔ دادی مرحومہ  بہت حوصلہ مند  اور پرعزم خاتون تھیں۔  کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتیں تو مکمل کرکے رہتیں۔ کسی کی پریشانی ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔  انہوں نے وعدہ کیا کہ آج آنے دو موصوف کا علاج کیا جائے گا۔ لہٰذا شام میں جیسے ہی شرما جی کے چیخنے چلانے کے آوازیں آئیں اِدھر سے  دادی نے  دروغہ جی   پر چیخنا شروع کردیا کہ:’ یہ شریفوں کا محلّہ ہے۔ یہاں یہ ذلیل حرکتیں نہیں ہوتیں۔ آپ کی مجال کیسے ہوئی کہ ہماری بیٹی کے ساتھ یہ سلوک کریں۔‘   دادی کی ڈانٹ پھٹکار سن کر  شرما جی بالکل خاموش ہوگئے۔ صبح میں والد صاحب سے ملے تو مسکراتے ہوئے کہا : ’کل رات ماتا جی نے خبرلے ڈالی۔ آج کے بعد یہ حرکت نہیں ہوگی میرا وعدہ ہے۔‘ اور جب تک شرما جی اس گھر میں رہے کسی نے ان کے چیخنے کی آواز نہیں سنی۔ ان کی اہلیہ نے بھی دادی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ان کے شوہرنامدار انسان بن چکے ہیں۔ سوچتا ہوں کیا دور تھا۔ آج کے ماحول میں ہندو کیا اور مسلمان کیا ، کوئی بھی ایسی ہمت نہیں کرپائے گا؟ اور سچ بات  تو یہ ہے کہ  جس بلند اخلاقی کا مظاہرہ شرما جی نے کیا تھا   اس کا تصوربھی   اس دور  میں نہیں کیا جا سکتا؟

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایک اور واقعہ یاد آگیا۔  میری پھوپی کی شادی  ہونے والی تھی۔ کسی طرح ہمارے ایک محلے دار روپ لال صاحب کے کنبے کو ان کا دعوت نامہ نہیں پہنچایا جا سکا۔ معلوم نہیں یہ بھول کیسے ہوئی تھی جس   کی وجہ سے گھر کے ہر فرد نے بہت خفت محسوس کی تھی۔ بہرحال شادی میں ان کے دونوں بیٹے آئے جن کی موجودگی کی وجہ سے کسی کو یہ احساس بھی نہ ہوپایا کہ ان کے گھروالوں کو دعوت نہیں دی جا سکی تھی۔ اصل معاملہ شادی کے بعد اس وقت کھلا جب روپ لال صاحب کی اہلیہ، شیلا خالہ، (انہیں ہم اورہمارے رشتہ داروں کے بچے اسی نام سے پکارتے تھے) نے آکر میری دادی سے شکایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہرنے دونوں بیٹوں کو یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ تمہاری بہن کی شادی ہے۔ باراتیوں کو کھانا کھلوا کرخاموشی کے ساتھ واپس آجانا۔

عید پرقصبے کی معروف شخصیات سمیت والد صاحب کے ہندو دوستوں کی کثیرتعداد ہمارے گھرپرمبارکباد دینے آیا کرتی تھی۔ بقرعید پرمعاملہ مختلف ہوتا تھا۔ البتہ کباب کے شوقین ان کے دوست شام کے وقت آجایا کرتے تھے۔ اسی طرح مسلمان دیوالی کی تقریبات میں تو شریک ہوتے تھے مگر ہولی کے پھاگ سے پرہیز کرتے تھے۔ مگرشام میں ہولی کے جشن وغیرہ میں شریک ہوجایا کرتے تھے۔

والد صاحب کے بچپن کے دوستوں میں ہندو مسلمان دونوں شامل تھے۔ ہندوؤں میں ان کے نزدیکی دوست لیفٹیننٹ کلدیپ راوت ، جن کا بہت کم عمری میں انتقال ہوگیا تھا، سیٹھ لکشمی چند (عرف لچھی) اور  جتیندرکمار اروڑا صاحب تھے۔ ہندوستانی فوج میں کمیشن ملنے اور بحیثیت لیفٹننٹ تقرر کئے جانے کے بعد وہ مقابلے کے امتحان کے ذریعے آئی ایس آفیسر بن کر غالباً کرناٹک میں چیف سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائرہوئے تھے۔ وہ ہندوستان میں کہیں بھی ہوتے عید کے دن والد صاحب کے نام ان کا مبارکباد کا تار لازماً آیا کرتا تھا۔ ان کے کنبے سے بھی ہمارے گھر جیسے تعلقات تھے۔ ان کی  بہن سرلا دیدی میری چھوٹی بہنوں کو بالکل سگی بھتیجیوں کی طرح اپنے پاس رکھتی تھیں۔ ایک دن چھوٹی بہن شیما علیم، جو اب جامعہ میں شعبۂ نفسیات میں  پروفیسر ہے، ان کے گھرمیں رکھی ہوئی سرسوتی کی مورتی سے کھیلنے لگی۔ مورتی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پرگرکرٹوٹ گئی۔ اس پر اروڑا صاحب کی دادی، جو اس وقت زندہ تھیں، نے غصہ کرنے کے بجائے جو تبصرہ کیا وہ آج کے ماحول میں شاید کوئی تصور بھی نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا: ’کوئی بات نہیں۔ آج ایسا تو لگا کہ اس گھر میں کوئی بچہ موجود ہے۔‘ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ  وہ کنبہ تھا جو تقسیم کی تباہی کا  شکارہوکرپاکستانی پنجاب سے آکردیوبند میں آباد ہوا تھا۔

بہرحال، ہندوستان کے دوسرے شہروں اورقصبوں کی طرح آج ہمارا قصبہ بھی ہمارے بچپن کے دیوبند سے بالکل مختلف ماحول پیش کرتا ہے۔ اسّی کی دہائی میں اپنی نام نہاد رتھ یاتراؤں کے ذریعے ایل کے اڈوانی نے ہندوستان میں جس دوسری تقسیم کی بنیاد ڈالی تھی ہمارا قصبہ بھی اس کا شکار ہوچکا ہے۔ جو قصبہ کبھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال تھا اور جہاں تقسیم کے وقت بھی مکمل امن رہا  تھا، اڈوانی کی رام مندرتحریک نے وہاں بھی فساد برپا کروایا تھا۔ اب ہمارے محلّے سے تمام غیرمسلم، ہندو اکثریتی علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مخلوط آبادیوں سے مسلمان، مسلم اکثریتی علاقوں میں آکر آباد ہوگئے ہیں اور قصبہ مکمل طورپر ہندو اور مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ نفرت کا جو زہریلا درخت اِس وقت اپنے شباب پر پہنچ چکا ہے اس کے اصل بیج بونے کا ذمہ دار ایل کے اڈوانی ہی ہے۔  اس کی شرانگیزی کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے  مشہور برطانوی صحافی اور قلم کار ولیم ڈالرمپل نے ہفتہ وار جریدے اسپیکٹیٹر کی 8 دسمبر 1990 کی اشاعت میں لکھا تھا:
’ 1929 کے موسم سرما میں یہ جرمنی کی وائمرریپبلک کی ناکامی کے ساتھ تباہ کُن افراط زرتھا جس کی وجہ سے نیشنل سوشلسٹس پارٹی کا عروج ہوا۔ 1990 کے موسم سرما میں اسی طرح کے واقعات نے ہندو بنیاد پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (یا بی جے پی)کو مقبولیت دے دی ہے۔ 1984 کے انتخابات میں بی جے پی کو محض دو نشستیں مل پائی تھیں۔ گزشتہ سال اس نے 88 نشستیں جیت لیں۔ جب چندر شیکھر کی بھان متی کا کنبہ والی حکومت گرے گی(اور کم ہی لوگوں کو 1991 کے موسم بہارسے آگے تک اس کے بچنے کی امید ہے) تو اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی ہندوستان میں بی جے پی سب کو بہا کر لے جا ئے گی ۔۔۔ بی جے پی کے لئے اقتدار تک کا راستہ صاف کرنے کے پیچھے جو شخص ہے اور اس کا نام ایل کے اڈوانی ہے۔۔۔ بی جے پی کے اس انقلاب سے پہلے پر اسرار طریقے سے ہزاروں اشتعال انگیزکیسیٹ تقسیم ہوئے تھے۔۔۔ان کیسیٹوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد کو فروغ دیا گیا ہے۔ ’’ہمارا مادر وطن رضاکاروں کو پکار رہا ہے ، ان جاں بازوں کو پکا ررہا ہے جوقوم کے دشمنوں [یعنی مسلمانوں] کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں‘‘ یہ ایک ایسی کیسیٹ میں کہا گیا ہے جو مجھے اپنے گھر کے نزدیک بازارسے ملا ہے ، ’’ہم بابر کی اولاد وں کے ہاتھوں مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اس کیلئے سڑکوں پر خون بہانے کی ضرورت ہے توپھر ایک مرتبہ سڑکوں پر خون بہا ہی دیا جائے‘‘ ۔۔۔ دہلی کے ڈرائنگ روموں  میں فسطائیت ایک فیشن ایبل شے بن گئی ہے، تعلیم یافتہ لوگ بلا جھجک آپ سے کہیں گے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کی تادیب کرہی دی جائے اور یہ کہ وہ گندے اور جنونی ہوتے ہیں، وہ خرگوش کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف زبانی جمع خرچ کرنے والے صرف باتیں کررہے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست اس پر عمل کررہے ہیں۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پرانی دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہند و اور مسلمان یہ کام سڑکوں پرانجام دے رہے ہیں۔‘

آج بی جے پی اور آر ایس ایس کے پھیلائے ہوئے زہر کا اثر ہرشعبے  میں  محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کاشتکاروں کے احتجاج کے بعد کچھ امید پیدا ہوئی تھی مگر انتخابات کے نتائج نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔ اللہ کرے  اہل وطن ہوش کے ناخن لے لیں   اوراس بات کو سمجھ لیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہوئے ہیں اس میں مسلمانوں ہی کی نہیں خود ان کی  اور پورے ملک کی تباہی ہے۔ ’میاں کو اس کی اوقات  دکھادی‘   کے زہریلے نشے کی  بہت بھاری قیمت  ہم سب کی آئندہ نسلوں کو ادا کرنے پڑے گی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: