ہندوستان میں ایک مسلمان کی کیا حیثیت ہے؟

نام کتاب: Being Muslim in Hindu India: A critical view
مصنف: ضیاءالسلام
ناشر: HarperCollins Publisher India
قیمت: برطانیہ میں £16.97 (ہندوستان میں ₹540)
تبصرہ: محمد غزالی خان

مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ بٹورنے کے پرانے منتر کو دہراتے ہوئے ہندوستان کے ہندوتوا وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر اپنی ذہنی پستی اورمفاد پرستی کا بدترین ثبوت پیش کیا ہے۔ موصوف نے صوبہ تلنگانہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: ’جب تک میں زندہ ہوں ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی کو دیا جانے والا ریزرویشن مسلمانوں کو نہیں دوں گا۔‘

اس سے قبل بھی انھوں نے21 اپریل کو ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ کانگریس پارٹی برسر اقتدار آگئی تو وہ: ’آپ کی سمپتّی [دولت] جن کے زیادہ بچے ہیں ان کو بانٹیں گے۔ گھسپیٹھیوں [دراندازوں] کو بانٹیں گے۔]

جو کچھ مودی نے کہا اس میں نئی بات کوئی نہیں۔ وہ اقتدار میں نفرت و عصبیت کے راکشس کے کندھے پر سوار ہو کر آئے تھے۔ بحیثیت وزیراعلیٰ گجرات مسلم نسل کشی 2002 کے دوران اور اس کے بعد ان کے دیے گئے متعدد بیانات تاریخ کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے راحتی کیمپوں کو ’بچے پیدا کرنے والے مراکز‘ بتایا تھا اور مسلمانوں پر ’ہم پانچ اور ہمارے پچیس‘ کا طنز کیا تھا۔ بحیثیت وزیراعظم شہری ترمیمی بل کے دوران انہوں نے فسادات کا الزام مسلمانوں پر لگایا اور کہا کہ انہیں ان کے کپڑوں سے پہنچانا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر زیادہ بچے پیدا کرنے والا شخص خود اپنے والدین کی چھٹی اولاد ہے۔

بہرحال نہ تو ہندوستان میں اور نہ ہی ہندوستان کے باہر کسی کو مودی کی اس زہر افشانی پر کوئی تعجب ہوا ہے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ہندوتوا سیاست داں نے مسلمانوں کا نام لے کر براہ راست حملہ کیا ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنی نفرت کا اظہاراشاروں کنایوں یا غیر واضح انداز میں کیا کرتے تھے۔ ان کے نفرت پر مبنی تازہ بیانات میں  اگر کوئی بات تعجب کی ہے تو وہ یہ ہے کہ الیکشن مہم تو انیس اپریل سے شروع ہوگئی تھی تو انہوں نے اکیس تاریخ تک انتظار کیسے اور کیوں کیا۔ ممکن ہے خفیہ ادارے انہیں اطلاع دے رہے ہوں کہ اس مرتبہ زمینی حقائق ان کے حق میں نہیں ہیں اوربوکھلاہٹ کے عالم میں موصوف اپنے ہوش گنوا بیٹھے ہوں۔ یا ممکن ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے تئیں مسلم دنیا کی بے حسی اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے میں نام نہاد عالمی برادری کی ناکامی سے ان کی ہمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یوں بھی مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے سے لے کر ان کے مکانات پر بلڈوزرچلوانے تک وہ ہندوستان میں ہر وہ حربہ استعمال کررہے ہیں جو ان کا دوست اور صیہونی وزیراعظم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرچکا ہے۔

بہرحال آج تک نفرت پھیلا کر ووٹ جمع کرنا ان کے لئے سب سے کارگار ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ اس مذموم حرکت سے انہیں 2001 سے 2004 تک گجرات کی وزارت اعلیٰ کی گدی پر براجمان رہنے کی ضمات ملی اور 2004 سے اب تک ملک کی وزارت عظمیٰ انہیں ملتی آرہی ہے۔ مگر وزارت عظمیٰ ملنے کے بعد بھی موصوف میں کوئی بہتری نہیں آئی اور نہ ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہوا۔ 2019 میں شہری ترمیمی بل کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والوں پر حملہ کرنے والوں کو سزا دینے کے بجائے انہوں نے الٹا مظلوموں کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور کہا کہ انہیں ان کے کپڑوں سے پہچانا جا سکتا ہے۔

مسٹر مودی کسی ایک فرقہ کو ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہوں ایسا بھی نہیں ہے۔ ان سے پہلے کانگریس نے تقریباً 26 سال تک مسلمانوں کو یہ کہہ کر بلیک میل کیا اور ان کے ووٹ حاصل کیے کہ انہوں نے کانگریس کو ووٹ نہ دیا تو آرایس ایس کا سیاسی بازو بھارتیہ  جن سنگھ برسر اقتدارآجائے گا۔ جنگ سنگھ کو 1977 میں امرجنسی کے بعد کانگریس کے خلاف بننے والی جنتا پارٹی میں تحلیل کردیا گیا تھا۔ 1980 میں اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کا نیا نام دے کر دوبارہ زندہ کیا گیا۔ تاہم نریندر اس کا بدنما چہرہ پوری طرح نریندر مودی کے قیادت سنبھالنے کے بعد ہی پوری طرح سامنے آیا ہے۔

تاہم یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ مسلمانوں کے خلاف جتنے بھی موضوعات کو بی جے پی اور آر ایس ایس نے نفرت کے لئے استعمال کیا ہے وہ سب کانگریس نے ہی کھڑے کئے تھے۔ 1980 کی دہائی تک ہندوتوا لابی نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ لہٰذا اس نے مسلمانوں کے خلاف زہرپھیلانے کے لئے انہی مسائل اور موضوعات کو استعمال کیا جو ان کے ووٹ لینے کے لئے اب تک کانگریس استعمال کرتی آرہی تھی۔ لہٰذا سنگھیوں نے 1980 میں بی جے پی کی شکل میں جنگ سنگھ کا ’پنرجنم‘ کروا کر کانگریس کے نرم ہندوتوا کو سخت گیر ہندوتوا سے چیلنج کیا گیا۔ جو کچھ بی جے پی نے ہندو اکثریت کو پیش کیا اس کے سامنے کانگریس کا سافٹ ہندوتوا نقلی اور کھوکلا معلوم ہوا اور اصلی و جارح ہندوتوا نے ہندو اکثریت کے دل میں جگہ بنالی۔ ملت کی بدقسمتی یہ رہی کہ پہلے کانگریس کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہنے اور بعد میں بی جے پی کی پیدا کردہ فسطائیت میں اسے کسی دوسرے متبادل راستے کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہ مل سکی۔

یوں تو ہندوستانی مسلمان سوتیلے پن اور امتیاز کا سامنا سن 1947 سے کر تے آرہے ہیں۔ مگر سینئر صحافی اور مصنف ضیاء السلام زیرتبصرہ کتاب Being Muslim in Hindu India میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو: ’یتیمی کی کیفیت سے مصالحت بتدریج اور تکلیف دہ انداز میں کرنی پڑی ہے۔ فی الحقیقت […] صورتحال کی حقیقت کو سمجھنےمیں کافی وقت لگا ہے، شاید ساٹھ سال سے زیادہ، اور مختلف سیاسی جماعتوں میں قیادتوں کی تبدیلی کے تواتر کے بعد ملت پر یہ حقیقیت آشکار ہوئی ہے کہ ہندوستان میں اس کا کوئی گاڈ فادرنہیں ہے۔‘

حقیقت یہ ہے کہ اسی کی دہائی تک، جب سید شہاب الدین افق سیاست پر اور ساتھ ساتھ اخبارات اور رسائل میں نمودار ہوئے، مین اسٹریم اخبارات یا رسائل میں کسی مسلمان کی تحریر تو کیا کوئی چھوٹا سا خط بھی مشکل ہی سے نظر آتا تھا۔ ان اخبارات یا رسائل میں کام کرنے والے مسلمان مسلم مسائل پر اظہارخیال کرتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے؛ مبادا ان پر فرقہ پرستی کا الزام نہ لگ جائے۔ مگر 80 کی دہائی کے بعد صحافت میں بہت سے نام نظر آئے۔ البتہ ضرورت سے زیادہ احتیاط میں ان کا رویہ پرانا والا ہی رہا۔ مگر جیسے جیسے ہندوتوا کا خطرہ بڑھتا گیا کچھ صحافیوں اور لکھاریوں کے رویے میں بھی تبدیلی دیکھنے کو ملنے لگی۔ ان جری صحافیوں میں ایک نام ضیاء السلام کا ہے۔

کتاب میں نہ یہ کہ انہوں نے ہندوتوا فسطائیت کی خطرناک روش کا پردہ چاک کیا ہے بلکہ انہوں نے ساتھ ساتھ ان مسلمانوں کی بھی خبر لی ڈالی ہے جو مسلمان بادشاہوں کو اسلامی ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ دونوں انتہا پسندوں کو حقیقت کا آئینہ دکھاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:’غوری اور پرتھوی راج کے درمیان جنگیں سیاسی خواہشات کا نتیجہ تھیں نہ کی تہذیبوں کے درمین تصادم۔ اور جو مسلمان غزنوی یا غوری اور دوسروں کے نام بڑے فخر کےساتھ لیتے ہیں بہتر ہوگا کہ وہ یہ نہ بھولیں کہ یہ اسلام کے مجاہدین نہیں تھے جو دشمنان دین کا خاتمہ کرنے کے لئے اٹھے تھے۔‘

ضیاء السلام صاحب فلمی رسالوں کے مدیر رہ چکے ہیں لہٰذا بالی ووڈ اور اس کے ذریعے مسلم منافرت کے ماحول کو ان سے زیادہ کون سمجھے گا۔ لکھتے ہیں: ’ہندی سنیما نے حکومت وقت کے سیاسی نظریات کو فروغ دینے کے لئے باندی کا کردارنبھا کر ہمیشہ خوشی محسوس کی ہے۔ 1950 میں جب ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے سوشلزم پر زوردیا تو [۔۔۔] ہندی فلمیں بنانے والوں نے بخوشی سیکولرزم اور مساوات کو فروغ دینے والی فلمیں بنانا شروع کردیں۔ 2014 کے بعد ہمارے فلم ساز اب بھی سیاسی تھاپ کو پورے انہماک سے سن کر اس پررقص کرتے ہیں۔ بہت سے ڈائریکٹر حکومت کی سیاسی فکر کے فروغ کے لئے فلمیں بناکر خوش ہیں۔‘

سلام صاحب لکھتے ہیں: ’جہاں ایک طرف یہ فہم واقعاتی لحاظ سے غلط ہے تو دوسری جانب اس نے جدید تاریخ کی احمقانہ تقسیم کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔‘ مصنف نے اس کی بہت سی مثالیں دی ہیں جن میں سے ایک اکشے کمار کی فلم ’سمراٹ پرتھوی راج‘ ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ پرتھوی راج نے محمد غوری کو شکست ینے کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔ مگر سلام صاحب رقم طراز ہیں: ’فی الحقیقت پرتھوی راج کی موت 119 میں ہوگئی تھی جبکہ محمد غوری 1206 تک زندہ رہا جس کے بعد اس کے آزاد کردہ غلام قطب الدین ایبک نے دہلی میںخاندان غلامان کی سلطنت کی بنیاد رکھی‘۔کتاب سات حصوں — ’سیاسی حاشیہ بندی‘؛ دوروسطیٰ کی تاریخ کو مسخ کیا جانا‘؛ ’ایک دن ایک مسلمان کو مارو‘؛ ’مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر غیض‘؛ ’محبت کے معاملات‘؛ ’جماعت اور حجاب‘؛ ’ہیئت اوراس کے بعد‘؛ ’آوازاٹھانے کا عمل‘ — اور تیس ابواب پر مشتمل اس کتاب میں مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی نا انصافی اور بالخصوص 2014 کے بعد پیدا ہونے والے مسلم مخالف ماحول پر نہایت بے باکی کے ساتھ بات کی گئی ہے۔

ہندوستان، جسے دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت سمجھا جاتا ہے، وہاں مسلمانوں کو حاشیے پر لگائے جانے، مسلم اکثریت والے انتخابی حلقوں میں پارلیمنٹ اور صوبوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی نشستوں کو نچلی ذات کے ہندوؤں (درجہ فہرست کی ذاتوں یا شڈیول کاسٹس) کے لئے مخصوص کر کے مسلمانوں کو نمائندگی سے محروم کئے جانے کی حقیقت سے لوگ واقف نہیں ہیں۔ اس حوالے سے سلام صاحب لکھتے ہیں: ’سن 2014 سے سیاسی طور پر مسلمانوں کو حاشیے پر لگائے جانے کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے مگر جو بات عام طورپر نظروں سے اوجھل رہتی ہے وہ یہ ہےکہ 1980 کے انتخابات کے بعد سے لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی گھٹ رہی ہے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ رکی ہوئی ہے جبکہ ان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’اگر ایوان میں نمائندگی آبادی کے لحاظ سے ہوتی تو ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی چودہ فی صد سے زیادہ ہونے کے باعث مسلم ارکان پارلیمنٹ کی تعداد تقریباً 74 ہونی چاہئے تھی۔ مگر ملت کے نمائندگان کی تعداد کبھی اس کے آس پاس بھی نہیں پہنچی۔ سب سے بڑی تعداد 1980 کے انتخبات میں آئی تھی جو 49 تھی۔ اس کے بعد یہ تعداد کم ہی رہی ہے۔ اقتدارکی ان راہداریوں میں کم نمائندگی کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی زیادہ آبادی والی نشتوں کو شڈیول کاسٹس (ایس سی) کے لئے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ جہاں شیڈیول کاسٹس کی ابتر حالت کو بہتر بنانا قابل تحسین قدم ہے مگراس کی قیمت اکثرمسلمانوں کو ادا کرنی پڑتی ہے جو سچر کمیشن کی تحقیق کے مطابق پہلے ہی تمام قوموں (ایس سی سمیت) سے صحت، تعلیم، روز گار اور سیاست میں نمائندگی جیسے ہر پیرامیٹر میں سب سے پیچھے ہیں [۔۔۔ اور] یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں  ہے بلکہ یہ سلسلہ آزادی کے وقت سے جاری ہے۔‘

اس کے علاوہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدواروں کا انتخاب بڑی احتیاط کے ساتھ ایسے کمزورعناصر  کا کیا جاتا ہے جو مسلم مسائل پر کبھی آواز نہ اٹھا پائیں۔

یاد رہے 1980 میں مرادآباد کامسلم کش فساد اس وقت ہوا تھا جب ہندوستانی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نمائندگی تھی اور 49 مسلمان پارلیمنٹ میں موجود تھے۔ اسی طرح تاریخ کے بھیانک ترین مسلم کش فسادات میں سے ایک مظفرنگر کا 2013 کا فساد اس وقت ہوا جب اتر پردیش اسمبلی میں مسلمان نمائندگان کی تعداد 63 تھی۔

مراد آباد کےفساد کے وقت کسی ایک رکن پارلیمنٹ کی ہمت نہیں ہوئی کہ پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتا ،یہ فرض کفایہ جنتا پارٹی کے سید شہاب الدین صاحب اور مسلم لیگ کے محمود بنات والا صاحب (اللہ تعالیٰ دونوں کے درجات بلند فرمائے) کو ادا کرنا پڑا۔ مظفرنگر مسلم کش فساد کے وقت تو صورتحال اور بھی زیادہ خراب تھی کیونکہ اس وقت یوپی اسمبلی میں سید شہاب الدین یا محمود بنات والا جیسا کوئی بیباک نمائندہ موجود نہیں تھا۔

ان تمام مسائل کے باوجود مصنف کو مسلم نوجوانوں کے بدلتے ہوئے رویوں میں امید کی ایک کرن نظر آرہی ہے۔ وہ رقم طراز ہیں: ’[مسائل سے گھری ہوئی] مسلم ملت [۔۔۔] نے نفرت پھیلا کراپنی برتری ثابت کرنے والوں کی سازشوں کا شکار ہونے کے بجائے اندرونی صفائی پر توجہ مرکوز کرنے، تعلیم پر توجہ دینے اورقدم بقدم مگر آہستہ ؤہستہ آگے بڑھنے کے لئے بازارمیں کھلے مقابلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘ اس نتیجے پر پہنچنے کے حق میں انہوں نے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں اوردکھایا ہے کہ مسلمان نوجوانوں نے کس طرح سول سروسز، منصفی اور پولیس میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لئے مقابلے کے امتحانات میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔

 ملت کی استقامت اورنازک حالات میں اپنے آپ کو سنبھالنے کی اس کی طاقت اور ہمت کا ذکر کرتے ہوئے اور اور اپنی پر امیدی کا اظہار کرتے ہوئے سلام صاحب رقم طراز ہیں: ’رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اندھیرا اب بھی بہت  ہے، بہت تاریک اندھیرا ہے جیسا کہ شمال مشرقی دہلی کے حالات نے ثابت کریا۔ مگر پھر بھی ایک ہلکی سی کرن نظر آئی ہے۔ ابھی دیر ہے مگر ہو سکتا ہے کہ یہ ایک نئے سویرا کی نوید ہو۔‘

سلام صاحب نے روایتی قیادت اور علما پر بجا تنقید کی ہے مگر تمام علما پر یہ الزام لگا کر کہ وہ نئی نسل کو جدید (اُن کے بقول ’سیکولر‘) تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں، انہوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے علماء خود اسکول اور کالج چلارہے ہیں اور مسلمان بچوں کو مقابلے کے امتحانات میں حصہ لینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اپنے آبائی وطن دیوبند کی ایک مسجد میں جمعہ سے پہلے تقریر میں۔ میں نے خود ایک عالم کو خود مسلمان بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے، ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بننے اور مقابلے کے امتحانات میں شرکت کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا چند بچوں کا مقابلے کے امتحانات میں شامل ہونے سے ملت کے بڑے بڑے مسائل حل ہوجائیں گے؟ ایک مرتبہ میں نے یہ سوال ذکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے روح رواں اور سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر ظفر محمود سے کیا تھا، جن کا ادارہ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرواتا ہے اورجس پر ہندوتوا میڈیا کے حملوں کا ذکرضیاء سلام صاحب نے بھی کیا ہے۔ جواب میں ظفر صاحب نے کہا کہ یقیناً یہ تمام مسائل کا حل نہیں ہے مگر مسلمانوں کے خلاف امتیاز کو کسی قدرکم کرنے کا ایک طریقہ ضرور ہے۔

خود اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ’بحیثیت کمشنرذمہ داری سنبھالے ہوئے مجھے تین یا چار دن ہوئے تھے کہ ایک ضعیف مسلمان میرے پاس آیا اور اس کی مدد کرنے کے لئے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے کہا بھئی آج سے پہلے میں آپ سے نہ کبھی ملا نہ آپ سے واقف ہوں تو میں نے مدد کہاں سے کردی؟ اس پر ان صاحب نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے اپنے کسی کام سے باربار دفتر کے چکر لگا رہے تھے مگر کوئی بات سننے تک کے لئے تیار نہیں تھا۔ مگر میرے وہاں پہنچتے ہی سب کے رویے تبدیل ہوگئے اور کام بھی کردیا۔‘

ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا: ’یہ واحد راستہ نہیں ہے اور مسلمانوں کو دیگر پیشوں میں بھی جانا چاہئے۔ مگرکسی اعلیٰ عہدے پر ایک ایماندار، فرض شناس اورخوف خدا رکھنے والے مسلمان کے پہنچنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی متعصب شخص کے بجائے کرسی پر وہ بیٹھا ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو بڑی تعداد میں مقابلے کے امتحانات میں شامل ہونا چاہئے۔‘

یہ جرات مندانہ کتاب لکھنے کے لئے ضیاء السلام صاحب قابل مبارکباد ہیں۔ کاش اس کا ہندی ترجمہ بھی ہوجائے اور ایوان سیاست، میڈیا اور دیگر مقامات پر ان لوگوں تک اسے پہنچادیا جائے جو طبیعتاً انصاف پسند ہیں مگر محض غلط اور جھوٹی افواہووں کی بیاد پر نفرت اور تعصب کا پہاڑ اپنے دلوں میں بنائے ہوئے ہیں تو یقینا اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: