آزاد ہندوستان میں فراموش کردئے گئے ملت کے ایک بے لوث مجاہد ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے آخری سپاہی بدر کاظمی کے ساتھ خصوصی بات چیت

رامپور میں ایک جلسے میں ڈاکٹر فریدی اسٹیج پر سامنے ٹیپ ریکارڈ رکھے ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر صاحب پر پے درپہ دفعہ 353 الف کے مقدمات قائم کئے جارہے تھے کہ وہ فرقہ وارانہ منافرت پیدا کر رہے ہیں ،لہذا ڈاکٹر صاحب ہر جگہ تقریر  ٹیپ کراتے تھے۔

آج، 19 مئی کو مسلمانان ہند کے ایک ایسے بے لوث خادم کی چھیالیسویں برسی ہے جسے ملت تو کیا وہ لوگ بھی فراموش کر چکے، جن پر انھوں  نے ذاتی احسانات کئے تھے۔ یہ وہ شخصیت تھی جو  اگر اپنے لئے مفاد پرستی کا راستہ منتخب کرتی اور  اس وقت کی مضبوط ترین سیاسی جماعت کانگریس میں شمولیت اختیارکرلیتی تو اعلیٰ ترین منصبوں سے سرفراز کردی جاتی، مگر ملی جذبے سے سرشار اس شخص نے  ملت  کے تحفظ کے لئے جس طرح اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا ،آزاد ہندوستان میں اس کی نظیر کم ہی ملے گی ۔

 اس عظیم شخصیت کا نام ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی تھا۔ وہ ہندوستان کے گنے چنے  ٹی بی  کے ماہرڈاکٹروں میں سے ایک تھے جنھیں  ﷲ تعالیٰ نے پیشہ ورانہ شہرت، وقار اور دولت  سبھی سے نوازا تھا۔وہ  چاہتے توآرام دہ زندگی بسر کرتے  اور ملی مفادات کا سودا کر لیتے تو شاید ہندوستان کے صدوریا نائب صدور میں ایک نام ان کا بھی ہوتا۔مگر انھوں نےبغیر کسی لالچ اور نام و نمود کے ملت کی خدمت کو ترجیح دی اور اس کے لیے اپنا تن ، من ، دھن سب کچھ نچھاور کر دیا ۔  

مسلمانان ہند کو متحد کرنے اور ایک سیاسی پلیٹ فارم پرلاکرانہیں ایک ناگزیرسیاسی قوت بنانے کے لئے انھوں نے  ایک سیاسی تنظیم ‘مسلم مجلس’  قائم کی تھی، جو اگرچہ آج تاریخ کا حصہ بن چکی ہے لیکن انتہائی کم مدت میں اس نے جس انداز سے خصوصی طور پر شمالی ہند میں اپنے اثرات مرتب کیے تھے اور یوپی میں کانگریس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا آج اس کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔

ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی

آج ضرورت ایسے مجاہدین ملت سے نئی نسل کو روشناس کرانے کی تھی لیکن افسوس ہم اپنے بزرگوں کے کارناموں کو خود ہی فراموش کر رہے ہیں ۔ کہیں سے ایسی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دیتی جس سے آنے والی نسلیں حوصلہ لیکر آگے بڑھنے کا سلیقہ سیکھیں ، لے دے کر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا یونین ہال میں ملی قائدین میں  ان کی ایک تصویر آویزاں ہے، جسے یونیورسٹی کے عام طلبا توکیا، ممکن ہے ان کے قائدین بھی نہ پہچانتے ہوں، جبکہ ڈاکٹر فریدی اس ادارے کے اقلیتی کردار کی بحالی کی جدوجہد کے سب سے بڑے علمبردارتھے اوراس مقصد کے لئے ان کی قربانیاں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا خواب تھا کہ شمالی ہند کے مسلمان ایک جھنڈے تلے متحد ایک مضبوط سیاسی قوت ہوں جنکی مرضی کے بغیر اس ملک کی قسمت کے فیصلہ نہ ہو، مگر  افسوس یہ نہ ہوسکا اور مسلمانوں نے یہ موقع صرف ضائع ہی نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر کالی رات مسلط کرلی۔

میں نے ڈاکٹرفریدی کا نام سب سے پہلے 1972 میں سنا تھا جب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کے لئے ملک بھر، بطورخاص یوپی، میں زبردست تحریک اٹھی تھی۔ اس وقت میری عمر تقریباً 14 سال تھی۔ کیونکہ مختلف شہروں میں دفعہ 144 کا اعلان کرکے جلسے جلوسوں پر پابندی لگادی گئی تھی، احتجاج کا ایک طریقہ یہ نکالا گیا تھا کہ مکانون پرسیاہ جھنڈ ے لگائے جائیں، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائیں اورمساجد میں نمازجمعہ کے بعد تقاریر کی جائیں۔ ہمارے آبائی شہر دیوبند میں ملی مسا ئل کا جھنڈا دو بھائی قمرکاظمی (مرحوم جو بعد میں مسلم مجلس کے تیسرے صدرمنتخب ہوئے) اور بدرکاظمی نے اٹھایا ہوا تھا۔

 مجھے یاد ہے کہ جس روزسیاہ جھنڈے لگائے جانے تھے، اس سے ایک رات قبل دیوبند کی دیواریں گیروے رنگ سے پوت  دی گئی تھیں، دیواریں نعروں سے مزین تھیں ،   جن میں مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان دیواروں کو نعروں سے رنگنے والا قصبے کا ایک نوجوان بدرکاظمی تھا جنہیں عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے میں بدربھائی کہتا تھا ۔ اپنی کم عمری اور وسائل کی تنگی  کے باوجود بھی  بدربھائی نے ایک پندرہ روزہ اخبار ’منشور‘ کے نام سے نکالا تھا۔

میرے علم کی حد تک اگرکوئی شخص آج بھی ‘مسلم مجلس ‘ کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے اور  ڈاکٹرعبدالجلیل فریدی کو یاد کرتاہے تو وہ بدربھائی ہیں۔ ان کی بہت سی باتوں، خاص طور پر بعض اوقات ان کی سخت کلامی اور بے احتیاط گفتگو سے مجھے بھی سخت اختلاف ہے،  مگرحقیقت یہ ہے کہ اگر بدربھائی مفاد پرستی کا راستہ اختیارکرلیتے تو کوئی بھی پارٹی انہیں اپنے یہاں اعلیٰ مقام عطاکردیتی اوروہ بھی بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرلیتے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں تقریری اور تحریری صلاحتیوں اور خوبصورت شخصیت سے نوازا ہے۔ بدربھائی ماشااللہ حافظ قرآن بھی ہیں اور ایک مدت بعد  اس سال بعد اپنے گھر پرقرآن  سنانے کا  اہتمام بھی کررہے ہیں۔

تمہید لمبی ہوگئی۔ بدربھائی کا مختصرتعارف کروانا اس لئے ضروری تھا تاکہ مسلم مجلس اور خاص طورپر 1974 کی مسلم سیاست کے  عروج و زوال کی کہانی  ریکارڈ میں آ جائے  اور قارئین  مسلم سیاست کا ایک عکس دیکھ سکیں ۔ ذیل میں بدربھائی کے ساتھ کی گئی بات چیت کی تفصیلات نقل کی جارہی جن میں بہت سے لوگوں، بالخصوص نئی نسل کے لئے چونکادینے والی معلومات ہیں۔ موجودہ حالات کی حساسیت کے پیش نظرگفتگوسے  کچھ  باتیں حذف کردی گئی ہیں محمد غزالی خان

ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی بجنور میں مسلم مجلس کے ایک جلسے میں

غزالی: میرے علم کی حد تک آپ شاید ہندوستان کے ان گنے چنے لوگوں میں ہیں جو آج بھی مسلم مجلس کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اورڈاکٹرعبدالجلیل فریدی کے نام کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ بچپن یا جوانی میں اس تنظیم میں شامل ہوئے اور آج بڑھاپے میں بھی اسے گلے لگائے ہوئے ہیں۔ ایک وقت میں مسلمانوں کی اہم سیاسی قوت بن کر ابھرنے اور آج محض ایک لیٹرہیڈ تنظیم بن کر رہ جانے والی اس تنظیم کی کہانی آپ کی زبانی سننا چاہوں گا۔

بدر کاظمی: عروج کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو ڈاکٹر صاحب مرحوم کو دیکھنے کو نہیں ملا،  کیونکہ وہ 1977 کے بعد ہوا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم نے 1968 میں مجلس قائم کی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے 1971 تھا، میری عمر اس وقت بہت کم تھی، مجلس کے لوگ، اقبال خان صاحب وغیرہ، بھائی صاحب (قمر کاظمی مرحوم جو 1989 تا 2003 تک سب سے زیادہ وقت صدر رہے اور حبیب صاحب مرحوم کے بعد سب سے زیادہ متحرک افعال آخری صدر تھے) کے پاس پُر قاضی  (ضلع مظفرنگر میں ایک قصبہ ) آئے جہاں ہم نے گنا کریشیر لگایا ہوا تھا۔ بھائی صاحب مجلس سے پہلے ہی وابستہ ہو چکے تھے۔ وہ کانپور سے نکلنے والے اخبار ’قائد‘ کی ادارت کررہے تھے۔ مگر پھر اسے چھوڑ کر پُر قاضی واپس آگئے اور وہاں گنا کریشر لگالیا تھا۔

رُڑکی میں مجلس کا جلسہ ہونے والا تھا۔ ان حضرات نے بھائی صاحب سے جلسے میں چلنے کو کہا۔ جلسہ رات میں ہونا تھا۔ لہٰذا ہم رات میں جب وہاں پہنچے تو جلسہ گاہ میں محض دو چارافراد، جنہوں نے جلسے کا انتظام کیا تھا، موجود تھے۔ خلقت ضرور تھی مگرہوٹلوں میں، اور مساجد یا مکانوں کی  چھتوں پر تھی۔ جلسہ گاہ میں ہرا جھنڈا اور چاند تارہ دیکھ کر وہاں آنے کی کوئی ہمت نہیں کرپارہا تھا۔ بہرحال جلسہ شروع ہوا۔ مقرررین میں جس کانام بلایا جاتا تھا وہ آکر اپنی بات کہتا تھا اورسامنے محض چند سامعین تھے۔ بہرحال آہستہ آہستہ لوگوں نے آنے کی ہمت کی اور سو دوسو لوگ وہاں آگئے۔ اس طرح یہ کام دوبارہ شروع ہوا۔

 اﷲ کا کرم ہے کہ 1968 میں ریپبلکن اور بیک ورڈ کلاسز فورم سے مل کر ڈاکٹر صاحب نے جو الائنس قائم کیا تھا اس میں یوپی میں ہمارے پانچ ایم ایل اے منتخب ہوگئے تھے جس میں دہ دلت تھے اور تین مسلمان تھے جن میں کانپور سے نسیم صدیقی تھے، ان کا انتقال ابھی حال ہی میں ہوا ہے۔ اس وقت وہ ایک نو جوان وکیل تھے، نئی نئی وکالت شروع کی تھی جو ابھی جم بھی نہیں پائی تھی۔ اسی طرح حبیب صاحب مرحوم الہ آباد سے آئے تھے۔ غازی پور سے شاہ ابوالفیض صاحب مرحوم تھے ۔ بہت پڑھے لکھے اور قابل شخص تھے۔ وہ اقوام متحدہ میں بھی کچھ رہے تھے۔ دو دلتوں میں ننھے لال کریل اور چھوٹے لال نربھئے۔

لکھنؤ مسلم مجلس سالانہ کانفرنس مائک پر بدر کاظمی، ،سامنے قمر کاظمی، الحاج ذوالفقار اللہ صاحب، ۔ہمزہ حسنی

1974 میں مجلس اور ایس ایس پی کا الحاق ہوا۔ 1971 میں شیخ عبداللہ کے دباؤ میں آکر ڈاکٹر صاحب نے کانگریس سے بھی اتحاد  کر لیا تھا ۔ مسز گاندھی 1971 کے انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ جیتی تھیں۔ مگرانہوں نے مسلمانوں سے کیا ہوا ایک بھی وعدہ وفا نہیں کیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کا معاملہ شروع ہوگیا۔ یہاں ایک واقعہ بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ان سیکولرلیڈروں سے جتنا بھی اتحاد کرلیں مگر یہ آپ پر کبھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود کہ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں عوام پر مظالم ڈھائے جانے کے خلاف انسانی بنیادوں پر ڈاکٹر صاحب بگلہ دیش کی آزادی سے متعلق کھل کر حکومت کی حمایت کر چکے تھے، جب بنگلہ دیش بن گیااور پاکستان کو شکست ہو گئی تو محض ڈاکٹر صاحب کے تاثرت دیکھنے اوران کا مزید امتحان لینے کے لئے ایک روز مسزگاندھی نے ڈاکٹرصاحب کو بلایا اور مشاورتی انداز میں پوچھا کہ میں سوچ رہی ہوں کہ بنگلہ دیش کو ہندوستان میں شامل کرلیا جائے۔ اس پرڈاکٹرصاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے اس سے اچھی خبر کیا ہو سکتی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور مجھے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مزید سیٹیں ملیں گی۔

بہرحال 1974 آتے آتے مسلمانوں کے مسائل کو لے کر ڈاکٹر صاحب مسز گاندھی سے نا امید ہوچکے تھے۔ اور1974 میں مجلس نے سمیکت سوشلسٹ پارٹی (ایس ایس پی) کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ اسی دوران 1973 میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکی کی بحالی کی تحریک شروع ہوچکی تھی۔ اس سلسے میں ہم ڈاکٹرصاحب کی قیادت میں جیل گئے۔ لکھنؤ سینٹرل جیل میں تقریباًڈیڑھ ماہ ہمارے ساتھ راج نارائن اور ایس ایس پی کے دو چار ایم ایل  اے  ساتھ تھے۔ بہرحال ڈیڑھ ماہ بعد عدالت نے ہمیں رہا کردیا۔ اس کے بعد ڈاکٹرصاحب نے مجھے مغربی یوپی کا انچارج بنایا تھا۔

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے دی گئی گرفتارے اور تقریباً ڈیڑ ماہ کی رہائی کے بعد بدر کاظمی لکھنؤ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ

اس وقت میری عمر چوبیس پچیس سال تھی۔ میں نے اس  زمانے میں  میرٹھ میں کانفرنس بھی کروائی جو بہت کامیاب رہی۔ اسی دوران اسدالدین اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی کو میں نے یوپی کا دورہ بھی کروایا اور مختلف اضلاع میں ہم نے مجلس کے جلسے کروائے جن میں اویسی صاحب نے شرکت کی اور مجلس کی حمایت میں تقریریں کیں۔

1974 کے اتحاد کے بعد یو پی اسمبلی میں ہمارے تین ایم ایل اے، حبیب صاحب، مسعود خان صاحب اوروہ دو دلت بھی آگئے۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب بیمار رہنے لگے تھے  وہ  خود ڈاکٹر تھے  تو  اکثر اپنے ہاتھوں کی دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میری کیا پوزیشن ہے۔ وہ خود ٹی بی کے ماہر ہونے کے باوجود اس مو ذی  مرض میں مبتلا ہوگئے تھے اورعلاج کے لئے بیرون ملک بھی جا چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے انہیں سختی کے ساتھ آرام کرنے کی تاکید کی تھی۔ ان کے پھیپڑے پہلے ہی جواب دے چکے تھے اور 1974 میں انتخابی مہم میں لمبے لمبے سفر کے دوران دھول دھکڑ کی وجہ سے طبیعت مزید خراب ہوگئی اور و ہ ا ﷲ کو پیارے ہوگئے۔

1974 تک ڈاکٹرصاحب اپنی انتھک کوششوں سے یوپی کی حد تک چودھری چرن سنگھ کی قیادت والی ،بی کے ڈی اور راج نراین کی ایس ایس پی وغیرہ کو یکجا کرچکے تھے۔ اس وقت تک اس میں وہ قوت پیدا نہیں ہوئی تھی مگر کام شروع ہوچکا تھا۔

بجنور میں مجلس کا نفرنس ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی، الحاج اسماعیل مرحوم، صدر مسلم لیگ ابراہیم سلیمان سیٹھ

اس کے بعد حبیب صاحب مرحوم پارٹی کے صدربنے۔ انہوں نے، الحاج ذوالفقار اﷲ صاحب کی سربراہی میں ڈاکٹرصاحب کے مشن کو جاری رکھا۔ اس کے بعد امرجنسی لگی۔ سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگی اور مجلس سمیت دیگر سیاسی کارکنان جیلوں میں چلے گئے۔

جیسے ہی امر جنسی  ختم ہوئی اور یہ لوگ رہا ہوئے اسی وقت اتر پردیش میں پارلیمنٹ میں گیارہ کی گیارہ سیٹیں مجلس کے لئے طے کردی گئیں۔ مگرمجلس کی اپنی قیادت اب بھی جیلوں میں تھی۔ اعظم خان اور محمد مسعود خان بھی اس میں شامل تھے۔ وہ سب جنتا حکومت بننے کے بعد رہا ہوئے تھے۔ بھائی صاحب تنہا تھے جو چھپے پھرتے رہے، ہاتھ نہیں آ ئے، یا ان پر توجہ اتنی نہیں رہی۔ اور مجلس کو مسلمانوں میں کوئی امیدوار نہیں ملا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ امرجنسی تازہ تازہ ختم ہوئی تھی اور لوگ حکمراں پارٹی کے مظالم دیکھ چکے تھے ۔ اس کے نتیجے میں مجلس کے محض دو لوگ، سلطان پور سےالحاج ذولفقارﷲ اور الہ آباد سے بشیراحمد خان ایڈووکیٹ منتخب ہوکرآئے۔

یوپی اسمبلی کے انتخابات میں مجلس  نے 10 سیٹوں پرامیدوار کھڑے کئے جن میں آٹھ جیت گئے ،دو ہارگئے جن میں اعظم خان بھی تھے۔ وہ 74 میں بھی ہارے اور 77 میں بھی۔ اسی طرح سید اسد حسین تھے جو امیٹھی کے قریب کسی حلقہ سے ہار گئے تھے۔  وہ  1984 میں مجلس کے صدر بھی رہے مگر جلد ہی انکی وفات ہوگئ تھی ۔ یہ وقت تھا جب چودھری چرن سنگھ مجلس کے لوگوں پر اتنا اعتماد کرنے لگے تھے کہ ان کی نظر حبیب صاحب پر تھی اور یوپی کی چیف منسٹری کے لئے حبیب صاحب کا نام تقریبا طے ہوگیا تھا۔ چودھری صاحب کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں تھیں کہ وہ فرقہ پرست تھے اورآریہ سماجی تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت صاف ستھرے ذہن کے انسان تھے۔ انھوں نے یوپی کے ان زمینداروں کو، جو کبھی مسلم لیگ میں ہوا کرتے تھے، گھروں سے نکالا اور بی کے ڈی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑوایا جن میں سعید مرتضیٰ، غیورعلی خان، محمود علی خان، رافع خان وغیرہ ہیں اور اس طرح انھوں نے مسلم لیڈرشپ کو کھڑا کرنے کا کام کیا۔ مجلس کے لوگوں کو قریب سے دیکھا تو وہ ان کے اخلاق اوردیانت داری سے اتنے متاثرتھے کہ مجلس  کے  ایک مسلمان کو یوپی کا وزیراعلیٰ بنانا تقریبا طے کرلیا تھا۔

مرادآباد فساد کے خلاف مظاہرہ اور گرفتاریاں لکھنو سینٹرل جیلُ کے گیٹ پر ذوالفقار اللہ صاحب، فضل الباری و دیگر لیڈر

بہوگنا، جو اس اتحاد میں شامل تھے، اس صورتحال سے پریشان ہوئے اور انہوں نے راج نرائن کا استعمال کیا اور ان سے کہا کہ یہ پھر مسلم لیگ کو زندہ کرنے جارہا ہے۔ راج نرائن نے مخالفت کی اور وہ اس حد تک گئے کہ رام نریش یادو، جنہیں صرف ڈسٹرکٹ بورڈ کی سیاست کا تجربہ تھا اور جنہوں نے کبھی کوئی الیکشن بھی نہیں لڑا تھا مگراب اسمبلی میں آچکے تھے، ان کو چیف منسٹر بنوادیا۔ یہ اندر کی بات تھی جو کبھی باہر نہیں آسکی۔ اس دوران حبیب صاحب بیمار رہنے لگے اور مستقل ڈائلسس پر  رہنے لگے تھے، اعظم گڑھ کے مسعود خان، جو ایک وکیل بھی تھے، اور دیگرلوگوں نے چودھری صاحب سے مل کر انہیں سائڈ لائن کرنا چاہا اور خود پی ڈبلیوڈی کے منسٹر ہوگئے اورعارف محمد خان کو ڈپٹی منسٹربنایا گیا۔ یہ سب ہونے کے بعد بھی حبیب صاحب نے بہت خوش اسلوبی سے اسے تسلیم کرلیا۔

جنتا پارٹی سے جو بھی معاملات حبیب صاحب نے کئے ہوں گے، صحت بھی ان کی جواب دے چکی تھی اور انہیں جنتا پارٹی سے شکایتیں پیدا ہوگئیں۔ اسی دوران اعظم گڑھ میں ایک سیٹ پر کسی کی موت کی وجہ سے ضمنی انتخاب آگیا جہاں سے محسنہ قدوائی کانگریس کی امیدوارتھیں۔ حبیب صاحب نے چودھری صاحب کے سامنے کچھ شکایات رکھیں جو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا اور حبیب صاحب اورمجلس نے کھل کر محسنہ قدوائی کی حمات کی ۔عارف محمد خان جو منسٹر بھی تھے، انہوں نے بھی جا کر الیکشن لڑایا اورمحسنہ قدوائی الیکشن جیت گئیں جس کے نتیجے میں عارف محمد خان کو مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد وہ کانگریس میں چلے گئے۔

غزالی : کیا عارف محمد خان مسلم مجلس کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے تھے؟

بدرکاظمی: عارف محمد خان سمیت مسلم مجلس کے تمام امیدوارجنتا پارٹی کے ٹکٹ پرکھڑے ہوئے تھے مگر یہ سب مسلم مجلس کے کوٹے میں آئے تھے۔ بہرحال حبیب صاحب کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب عروج یہاں پر ہے کہ الحاج ذالفقاراﷲ صاحب مرکز میں فائنانس اسٹیٹ منسٹر بنائے گئے اور کسٹم اور ایکسائز وغیرہ سب ان کے پاس تھیں۔

مرادآباد میرٹھ فسادات کے خلاف مظاہرہ قمر کاظمی، فضل الباری

اب تک مجلس اپنی شناخت کے ساتھ چل رہی تھی۔ اسی دوران سوشلسٹوں اور جن سنگھیوں میں اختلافات بڑھ گئے۔ اس کے نتیجے میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا اور سرکار گرگئی۔ سرکار گرجانے کے بعد چودھری چرن سنگھ کی گورنمنٹ بنی تو ذوالفقارﷲ صاحب کو وزارت پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف دی گئی۔ اسی دوران چودھری صاحب سے بھی اختلاف ہوا۔ چندرشیکھر اس وقت دوسرے گروپ کو لیڈ کررہے تھے۔ وہ سوشلسٹ تھے اوران کا ذہن صاف تھا۔ ہم لوگ ان کے ساتھ چلے گئے اور دوبارہ جو الیکشن ہوا اس میں بھائی صاحب سہارنپور سے الیکشن لڑے اوردھاندلی کے نتیجے میں وہ محض پانچ ہزارووٹوں سے ہارگئے۔ ذوالفقاراﷲ صاحب کیرانہ سے لڑے وہ بھی ہارگئے اور مجلس  کا جو ایک عروج ہوا تھا اس کا زوال شروع ہوگیا۔ مگر اس دوران مجلس یوپی اسمبلی میں برابر 1989 تک اپنی نمائندگی کرتی رہی ۔

دسمبر 1985 میں پھرالیکشن ہوئے جس میں فضل الباری صاحب اور ایک اور صاحب جن کانام مجھے یاد نہیں آرہا ہے، دو ایم ایل اے اس الیکشن میں بھی آگئے تھے۔ میں دیوبند سے لڑا تھا اوراﷲ کے فضل سے شاید پہلا موقع تھا جب دیوبند حلقے میں، جہاں ٹھاکروں کی اکثریت ہے، مسلمانوں کا یکطرفہ ووٹ مجھے ملا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ مولانا عثمان صاحب یا مولانا اسعد صاحب جو میرے مخالف تھے اسعد مدنی صاحب کے بارے میں تو میں نہیں کہہ سکتا البتہ مولانا عثمان صاحب کے گھرانے تک کے ووٹ مجھے ملے تھے۔ بدقسمتی یہ تھی کہ اس وقت مسلمانوں میں ووٹ کا تناسب پچیس سے تیس فی صد ہواکرتا تھا۔ اس حالت میں بھی ٹھاکر مہابیرسنگھ جو بیس پچیس سال سے ایم ایل اے  ہوتے آرہے تھے، انہوں نے پرانا حربہ استعمال کیا اور جگہ جگہ جا کریہ کہا کہ کیا مجھے ایک بچے سے ہروا کر پاکستان بنواؤ گے ؟

اس دوران ملک کی سیاست اتنی خراب ہوتی چلی گئی اور ہر لحاظ سے پیسے پر منحصر ہوتی جارہی تھی کہ آپ کے پاس پیسہ ہے اور آپ پیسہ جٹا سکتے ہیں تو سیاست میں آپ کا کوئی کام ہے ورنہ آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ بہرحال 1989 آتے آتے بابری مسجد کا معاملہ شدت اختیار کرگیا۔ 1991 میں بھائی صاحب نے پورے اترپردیش میں انصاف کارواں نکالا۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہمیں عدالت پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ہندو مسلم بھائی چارہ بنا رہنا چاہئے۔ وہ خاص طورپر ہندوؤں سے کہہ رہے تھے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بابری مسجد رام جنم بھومی کے مسئلے کو سڑکوں پر لاکر اور اشتعال اندیشی نہ پیدا کرکے ہمیں فیصلہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہئے جس کے بھی حق میں آئے۔ بہرحال یہ ایک کاوش تھی اورشواہد کی روشنی میں اس بات کا یقین تھا کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔

1991 آگیا اوربھائی صاحب رات دن بہت پریشان رہنے لگے۔ شاید وہ پورے قضیے کی تاریخ لکھ رہے تھے۔ ہاں ایک بات بتانا بھول گیا۔ جس وقت بابری مسجد کا تالا کھلا تو بھائی صاحب اور فضل الباری رات میں ٹرین سے دہلی آرہے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ مشاورت کا اجلاس تھا یا مسلم پرسنل لا بورڈ کا جس میں انہیں اگلے روز شرکت کرنی تھی۔ ٹرین میں ان کے ساتھ ایک دو سنگھی  ایم ایل اے بھی تھے۔ فضل الباری سو گئے تھے کہ ان میں سے ایک نے آواز دی، ’اے کائد اعجم اے کائد اعجم‘ ان کے ہاتھ میں اخبار تھا۔ فضل الباری اٹھے اورپوچھا کہ کیا ماجرا ہوگیا۔ اس نے جواب دیا بابری مسجد کا تالا کھل گیا اور پوجا ارچنا شروع ہوگئی۔ باری صاحب نے اس کے ہاتھ سے اخبار لیا اس پرایک نظرڈالی اور کہا ’تالا لگ جائے گا کل پرسوں تک‘ وہ بہت پریشان ہوا کہنے لگا ’اے کائد اعجم اے کائد اعجم یہ کیا بولرہا ہے تو؟‘ چنانچہ دہلی میں میٹنگ ہوئی اس میں مولانا علی میاں، مولانا منت ﷲ رحمانی، سید شہاب الدین اور ملت کے تمام بڑے بڑے قائدین موجود تھے۔ اس میٹنگ میں فضل الباری صاحب نے ایک تجویز رکھی کہ دیکھئے انھوں نے کہا ہے کہ نقض  امن کا کوئی خطرہ  نہیں ہے جس کی بنیاد پر تالا کھولا گیا ہے۔ آج اس میٹنگ میں طے کردیا جائے کہ اگلے جمعہ کی نماز ہم ایودھیا میں پڑھیں گے اورمولانا علی میاں نماز پڑھائیں گے۔ میں بستی، بہرائچ اور اعظم گڑھ سے اتنی بھیڑ لے آؤں گا کہ انہیں دوبارہ تالا ڈالنا پڑے گا۔ اگر اس وقت ہم نے کچھ نہ کیا تو یہ چیز ہمیں 1947 سے بھی زیادہ خراب حالات میں پہنچادے گی۔ اس وقت تک ہمیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ دو روز قبل راجیو گاندھی سے مل کر مذہبی قیادت بات چیت کرچکی تھی کہ پرسنل لا کے بارے میں وہ اپنا موقف تبدیل کردے اوربابری مسجد پر مسلمانوں کی جانب سے مزاحمت نہیں ہوگی۔ میٹنگ میں سید  شہاب الدین صاحب نے آنسو بہائے اس کے علاوہ کسی نے کچھ کرنے کے لئے کوئی حامی نہیں بھری۔ فضل الباری کوا ﷲ غریق رحمت کرے، انہوں  باربار کہا کہ اس مسئلے کو مومنٹ نہ بننے دیا جائے اور یہیں پر روک دیا جائے اور روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ ہمت کریں۔ بھیڑ میں لے آؤں گا اور اس بنیاد پر تالادوبارہ لگ جائے گا۔ ورنہ ہمیں 1947 سے بدترحالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہرحال 6 دسمبر کو مسجد شہید کردی گئی، مسلمانوں کودیوار سے لگادیا گیا، قیادت بے کاراور بے وقعت ہو کررہ گئی، پورے ملک میں فسادات بھڑک اٹھے دیوبند جیسی جگہ جہاں 1947 میں بھی فسادات نہیں ہوئے تھے، وہ بھی اس آگ سے نہ بچ سکی اورچارافراد اس کی نذرہوگئے۔

غزالی: اس کہانی میں ان کرداروں کے بارے میں بھی تو بتائیں جنہوں نے مسلم مجلس کو جمپنگ پیڈ کے طورپر استعمال کیا اورپھر موقع پرستی کی تمام حدود پارکرگئے۔

بدرکاظمی: اس وقت علیگڑھ کی جو قیادت تھی وہ ڈاکٹرصاحب کے نزدیک آئی اس میں اعظم خاں، عارف محمد خان، اخترالواسع، جاوید حبیب، زیڈ کے فیضان اوردیگر لوگ شامل تھے۔ یہ بات ڈاکٹرصاحب کی وفات کے بعد معلوم ہوئی کہ کچھ لوگوں کی ڈاکٹر صاحب مالی کفالف بھی کیا کرتے تھے۔ میں ان لوگوں کے نام بتانے سے قاصرہوں۔ اس کا میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ بہرحال ان کی زندگی تک تو یہ تمام لوگ وفادار رہے۔ اس کے بعد یہ سب غائب ہوگئے۔ مثلاٗ اعظم خان 1974 اور 1977 مجلس سے لڑے مگر 1980 میں وہ چودھری چرن سنگھ کے ساتھ چلے گئے اور پھر ملائم سنگھ کے ساتھ چلے گئے اوردھیرے دھیرے پرانے ساتھیوں کو پہچاننا بھی بند کردیا۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔

یہی عارف محمد خان کا ہوا۔ عارف محمد خان کو پیلو مودی نے ڈاکٹرصاحب سے مانگا تھا کہ اس نوجوان کو مجھے دے دیجئے۔ اس وقت اتحاد چل رہا تھا بی جو پٹنائک، پیلو مودی، راج نارائن چرن سنگھ وغیرہ کا۔ اس وقت یہ ان کے ساتھ چلے گئے مگر منسٹرمجلس کے کوٹے پربنے تھے۔ ان کا بڑا اختلاف شاہ بانو والے معاملے سے شروع ہوا جب انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کی تھی جو اختراالواسع نے تحریرکی تھی۔ اس کے بعد ہی ان کا اسلامیات اور مطالعے کی جانب رحجان بھی ہوا۔

اور انہیں کا کیا، محمد مسعود خان جیسا آدمی جو مجلس کے کوٹے پرمنسٹر بھی رہا وہ بھی چھوڑ چھاڑکرچرن سنگھ کے ساتھ چلے گئے اورراجیہ سبھا بھیجے گئے۔ اﷲ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔ الیاس اعظمی، جو دو مرتبہ ایم پی رہ چکے، ایک مرتبہ سماج وادی سے اوردوسری مرتبہ بی ایس پی سے۔ انہوں نے بھی مجلس کو چھوڑدیا۔ مگر الیاس صاحب کے بارے میں یہ کہنا پڑے گا کہ دوسروں کی طرح وہ ڈاکٹرصاحب کو بھولے نہیں۔ آج بھی ڈاکٹرصاحب کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ عالم بدیع اعظمی آج بھی سماجوادی کے ایم ایل اے ہیں۔ مجلس کا جھنڈا لے کر اس آدمی نے دو الیکشن لڑے۔ بہت ضعیف ہوگئے ہیں اﷲ ان کے عمردراز کرے مگر آج غلطی سے بھی ان کے منہ سے ڈاکٹرصاحب کا نام نہیں سنیں گے۔ جب بھی بات کریں گے ملائم سنگھ کی کریں گے۔ مجھے تو حیرت ہوتی ہے بھائی۔

غزالی: جن شخصیات کا آپ نے ذکرکیا ہے ان میں دو شخصیات زیادہ معروف ہیں۔ اعظم خان اور عارف محمد خان۔ مجھے تو 1972 میں، جب میں بہت کم عمر تھا۔  ہندوستان ٹائمز کے صفحہ اول پر اس وقت کے طلبا یونین کے صدر عارف محمد خان اور اخترالواسع کی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے تصویر آج بھی یاد ہے۔ اگلے روز خبرآئی کہ یونیورسٹی سے ان سب کا اخراج ہوگیا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے بے حد صدمہ ہوا تھا۔ پھرجب 1974 میں علیگڑھ میں داخلہ لیا تووہ یونیورسٹی چھوڑ چکے تھے۔ ان سے ایک عقیدت سی تھی۔ کشمیرہاؤس میں وہ ایک سینئرکے کمرے پر موجود تھے۔ اس وقت ان سے مصافحہ کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔ ان کے جانے کے بعد کچھ سینئرز کو بات کرتے سنا کہ یہ شخص بلا کا مفاد پرست ہے۔ کانگریس میں شامل ہونے والا ہے۔ یہ کانگریس کا ٹکٹ لے کر اپنا قبلہ بدل لے گا اور اخترالواسع کو جامعہ ملیہ کی لیکچرر شپ دے کر خاموش کردیا جائے گا۔ مجھے یہ باتیں سن کر بہت دکھ ہواتھا۔ اخترالواسع نے بہرحال ملت کا سودا نہیں کیا اور سیاست چھوڑ کرایکیڈیمک زندگی شروع کردی۔ مگر عارف محمد خان کا جہاں تک شاہ بانو کیس تک انہوں نے اصولی موقف اختیارکیا تھا۔ مگر بعد میں ان کی جو تصویر سامنے آئی اس کی مثال ایسے شخص سے دی جا سکتی ہے جسے اپنے بھائی سے اختلاف ہوجائے اور وہ گراوٹ کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے خاندان کے ایسے دشمن سے جاملے جس سے گھرکے شر سے گھرکی نیک دامن خواتین بھی محفوظ نہ ہوں۔

بدرکاظمی: جب تک وہ ہندوتوا کی گود میں جا کر نہیں بیٹھے تھے میں انہیں قابل معافی سمجھتا تھا۔ جو کردار وہ آج ادا کررہے ہیں اس سے تو میں کسی صورت اتفاق نہیں کرسکتا۔ میں جانتا ہوں کہ شاہ بانو کیس کے بعد اس شخص کو جس طرح پوری ملت نے ذلیل ورسوا کیا، خاص طورپرہمارے علما ء کے طبقے نے، اس کے نتیجے میں اس نے محسوس کیا کہ اس کا سیاسی قتل کیا جارہا ہے۔ اورایسا نہیں ہے کہ صرف زبانی یا سیاسی طریقوں سے ایسا کیا جارہا ہوبلکہ جسمانی طورپر بھی اس کو ہراساں کیا گیا۔ اس پرتین قاتلانہ حملے ہوئے جن میں سے ایک پروفیسر مجیب کے جنازے میں اس کے سر پر سریے  سے حملہ کیا گیا جس میں اتنا شدید زخمی ہوا کہ آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لیجایا گیا جہاں بتایا گیا کہ اگر دس پندرہ منٹ اوردیر ہوجاتی تواس کی موت واقع ہوجاتی۔ اس چیز نے اسے ہم سے بہت دورکردیا۔ اور میرے خیال سے اس کے بعد سے ملت میں اس کی واپسی ممکن نہیں رہی۔ علماء  سے وہ پہلے ہی خوش نہیں تھے مگر اس حملے کے بعد ان کی نفرت کی انتہا نہیں رہی۔ اس کے بعد انہوں نے لائن ہی بدل لی اور اس حد تک بدل لی کہ تقریباً دو سال قبل ان سے میری ایک ملاقات ہوئی تھی۔ آپ کو فوٹو دکھا سکتا ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی جو ہوچکا ہوچکا، آپ اب بھی ملت کی خدمت کر سکتے ہیں، اس کو ایک قیادت فراہم کرسکتے ہیں۔ آج پرانے حالات نہیں رہے۔ مسلمانوں میں ایک بڑا طبقہ ہے جو پرسنل لاء  پر علماء  سے اتفاق نہیں کرتا۔ ان میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ اس وقت میں اس مسئلے میں آپ کا مخالف تھا لیکن مطالعے سے پتہ چلا کہ اس مسئلے پر مسلمانوں کا موقف غلط تھا۔ وہ مجھ سے لڑنے کوتیار ہوگئے۔ کیا بات کرتے ہیں آپ۔ کس قوم کی بات کروں۔ بے ہنگم ہجوم ہے کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ جومیری جان لینے کے درپے رہے میں ان کے لئے کیا کروں۔ میں نے کہا کہ ارے بھائی وہ ایک مخصوص طبقہ تھا۔ پوری ملت تو نہیں تھی۔ آپ ہمت کریں۔ میدان میں آکر بات کریں۔ قوم کو بتائیں کہ اس ملک میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔ جس طرح کوئی ڈاکٹرصاحب مرحوم پر فرقہ پرستی کا الزام نہیں لگا سکا آپ پر بھی نہیں لگا سکے گا۔ اور آپ ملت میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس میں صبرچاہئے اور وقت لگے گا۔ خیر انہوں نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ میں ایکٹو پولٹکس میں تو بالکل نہیں آؤں گا۔ میں تو لکھنے پڑھنے کا کام کررہا ہوں یہی کرتا رہوں گا۔ نہ کسی پارٹی میں شامل ہوں گا۔ اب جیسے ہی بی جے پی حکومت میں آئی انہیں کیرالہ کا گورنر بنادیا گیا۔ ایک بات توبہرحال ہے، تم اتفاق کرو یا نہ کرو، مسلمانوں کی نجات ملاازم سے نجات میں ہے۔

عارف محمد خان کے ساتھ بدر کاظمی کی آخری ملاقات

غزالی: جس ملا ازم کی آپ بات کررہے ہیں اس کا بھی اور روایتی قیادت کا بھی انتظام تو اﷲ تعالیٰ نے کردیا ہے۔ میرے لئے تو جو بات خوش آئند ہے وہ یہ ہے کہ نئی نسل کے بہت سے فارغین مدارس کی سوچ میں زبردست فرق آیا ہے۔ لیکن جہاں تک مفادپرستی کا تعلق ہے کوئی اچانک مفاد پرست نہیں ہوجاتا۔ اس کے جراثیم پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ ایسے لمحات میں مجھے جاوید حبیب مرحوم یاد آتے ہیں کہ کیسے کیسے مشکل حالات کا  انھوں  نے سامنا کیا مگر کبھی اپنے اصولوں  پیچھے نہیں ہٹے ۔

بدرکاظمی: جاوید حبیب کا جہاں تک تعلق ہے، وہ ایک مخلص آدمی تھا۔ وہ ملت کے لئے بھی مخلص تھا ،اسلام کے تئیں بھی مخلص تھا۔ اس کے ذاتی اغراض و مقاصد نہیں تھے۔ ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں وہ نسل جس کے پاس اخلاص تھا، للٰہیت تھی، غیرت تھی، حمیت تھی اور جسے ملی مفاد عزیز تھا وہ قبروں میں جا چکی۔ آج کی سیاست میں صرف ذاتی مفادات ہیں۔ کسی میں تھوڑا بہت ملی جذبہ ہے بھی تو وہ ثانوی ہے۔ پہلے یہ چیز ہے کہ میں کسی طرح خود اپنی زندگی بنالوں اس کے بعد ملت آتی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں۔ چند لوگ رہ گئے ہیں جو چراغ سحر ہیں جو کسی بھی وقت گل ہو سکتے ہیں۔ ابھی ہم نظریے کی بات کررہے تھے۔ آج ہمارے پاس مجلس کے جھنڈے اور لیٹرہیڈ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ماضی والا جذبہ اب آپ پیدا نہیں کر سکتے۔ وہ نسلیں ختم ہوچکیں۔ مثال کے طورپرہم مولانا حسین احمد سے کتنا بھی اختلاف کریں مگریہ وہ شخصیت تھی کہ جب اسے پدم شری کا خطاب دیا جاتا ہے تو وہ اسے واپس کردیتے ہیں اور ملنے والی رقم بھی یہ کہہ کر واپس کر دیتے ہیں کہ میں نے جو خدمت بھی انجام دی وہ اس سب کے لئے نہیں دی۔ یہ چیزیں ثابت کردیتی ہیں کہ اس شخص کا ایک کردار تھا اور اس کا مقصد ذاتی مفادات حاصل کرنا نہیں تھا۔ انہیں کی اولاد کا کردار آپ کے سامنے ہے۔ دہشت گردی کے الزام میں پھنسائے گئے نوجوانوں کی رہائی کے لئے ارشد مدنی کی کاوشوں کی تعریف کی جاتی تھی۔ بیچ میں، میں بھی ان کی اس خدمت کا قائل ہونے لگا تھا مگر پھر یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ وہ ایجنسیوں سے ملے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان نوجوانوں میں سےکچھ کو رہا کروالیتے ہیں کچھ سے اقبال جرم کروا کر پھنسا دیا جاتا ہے۔ یہی بات ان کے وکیل محمود پراچہ نے کہی تھی ۔ پھرموہن بھاگوت کے ساتھ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں انہوں نے آج تک نہیں بتایا۔ اس ملاقات کا یہ اثرضرور دیکھا گیا کہ جب بھاگوت نے یہ کہا کہ ہندوستان کا ہر شہری ہندو ہے، انہوں نے اس کی تائید کرڈالی اورکہہ ڈالا کہ اس میں ایسی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ اس کی تائید میں انہوں نے لغات مجازی کا سہارا لیا اور کچھ اشعار بھی سنائے۔ لہٰذا اپنے کو ہندو کہنے میں بھی انہیں کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے بعد کے اخبارات اٹھائیں تو یہ بیان آرہے ہیں کہ یہ لوگ ملک کو ہندو راشٹرکی جانب لے جارہے ہیں۔ محمود مدنی کہتا ہے کہ ہم نے نظام مصطفیٰ کو ریجیکٹ کیا۔ کہتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان بائی چوائس ہندوستانی ہے۔ کیا حماقت ہے۔ ارے بائی چوائس والی نسل تو کب کی ختم ہوچکی۔ تمہارے باپ دادا یہ بات کہہ سکتے تھے تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو۔ ہندوستانی مسلمان بائی برتھ ہندوستانی ہے۔ اس کا اس زمین پر برابر کا حق ہے۔ ارے بھائی تم چاہتے کیا ہو۔ کیوں ملت میں خلجان  پیدا کر رہے ہو؟ پھرجنیوا جا کر پریس کانفرنس کر کے این آر سی اور کشمیر ہر ایشو پر حکومت کے ساتھ ہونے کا اعلان کرتے ہیں، واپس آکر دھرنا پردرشن کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صاحب ہم نے سینے پہ گولی کھائی ہے، ہمارے سینے کم نہیں ہوں گے۔ ان حالات میں نئی نسل میں ملی حمیت اور غیرت کہاں سے پیدا ہو گی؟

سی اے اے مخالف احتجاج میں ایک بات بہرحال اچھی ہوئی ہے کہ روایتی قیادت میں مسٹر ہوں یا ملا سب کوگھربھیج دیا گیا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جس طرح ایک وقت میں علیگڑھ نے اپنا کردار ادا کیا تھا، جامعہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ وہ اپنے بانیان کے نظریے کو لے کر آگے بڑھے اور ترنگا اٹھا کرمیدان میں اترے، اپنی شناخت بحیثیت ہندوستانی منوانے کی کوشش کی اور پورے ملک کو متاثرکیا جس کے نتیجے میں ترنگے کے ساتھ احتجاج پورے ملک میں شروع ہوئے۔ یہی ہمارا طریقہ کار ہونا چاہئے کہ اس ملک کے پرچم اور آئین کا احترام کیا جائے اوربحیثیت ہندوستانی اپنی شناخت پرزوردینا چاہئے۔ بہرحال اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

غزالی: مسلم قیادت کے حوالے سے موجودہ حالات میں نگاہیں اسد الدین اویسی کی جانب  اٹھتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

بدر کاظمی: دیکھئے 370 پر جب مسلمانوں میں ایک سکوت طاری تھا، کسی مسلم لیڈرکی بولنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، اویسی نے دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ اس پر میں نے ان کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ جو کچھ اویسی نے کہا ہے ، وہ مسلمانوں کی مشترکہ آواز ہے۔ کیونکہ ایک زمانے میں ان کے والد ہماری مدد کر چکے تھے تو ان کے لئے ہمارے دل میں نرم گوشہ بھی تھا۔ ہم نے ان سے رابطہ کرنے کو کوشش کی، آپ کو یاد ہے کہ مرحوم سلیم پیرزادہ نے انہیں تین خط لکھے جن کا جواب دینا تو درکنار معمولی رسید بھیجنے کی بھی موصوف نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ میں خود یہ چاہتا تھا کہ آج جب ہم سب لوگ ناکام ہیں اور وہ بھی اپنے ذرائع، وسائل اور تہی دامنی کی وجہ سے کچھ نہیں کر پارہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں ذرائع اور وسائل دئے ہیں، ان کےپاس بے پناہ دولت ہے تو یہ لوگ میدان میں آئیں تو ہم تعاون کریں گے۔ ہم کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ہمیں موقع دیا جائے، صدارت اور عہدے دئے جائیں اوراسمبلی اور پارلیمنٹ کے ٹکٹ دئے جائیں۔ صرف اتنا چاہتے تھے کہ یوپی کے مختلف علاقوں میں جو لوگ رہ گئے ہیں کم از کم ان سے یہاں کے حالات، مسائل اور طریقہ کارپر ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرلو اورایک پالیسی اور پروگرام بنا کر اس کے مطابق آگے بڑھو۔ مگر افسوس کہ وہ تو کسی سے بات تک کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ ہر ایک کو جانتے ہیں پہچانتے ہیں مگر کسی سے بات کرنے کو راضی نہیں ہیں۔ میں اندیشوں کا شکار ہونے کا قائل نہیں ہوں مگر جو کچھ نظرآرہا ہے اسے دیکھ کرتو ایسا لگتا ہے کہ یہ کھیل ہے جو کہیں اور سے کھیلا جارہا ہے اور بی ٹیم والا معاملہ نظرآرہا ہے۔ مہاراشٹر میں آپ الیکشن لڑے ٹھیک تھا۔ مگر اب جوآپ جھارکھنڈ میں جا کر الیکشن لڑ رہے ہیں اس میں کیا منطق ہے بھائی؟ آخر کس لئے؟ یوپی میں آپ ضرور آئیں مگریہاں آنے کے لئے کیا آپ نے زمین تیارکی؟ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، اسے عوام میں جانا ہوگا، ایک پیغام دینا ہوگا، کمیٹیاں بنانی ہوں گی، پولنگ بوتھز پر آپ کے ورکرز ہونےچاہئیں۔ زمین پر آپ کا کوئی کام نہیں ہوتا اور آپ یوں ہی سر اٹھائے چلے آتے ہیں۔ یہ کیا طریقہ ہے بھائی؟ یہ تمام چیزیں سمجھ سے باہر ہیں۔ اور مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ کسی اورکا ایجنڈا ہے جن کی مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں اشتعال پیدا کرنا ضرورت ہے۔ اقلیت دنیا میں کہیں بھی ہو اکثریت کو چیلنج کرکے خوش نہیں رہ سکتی۔ مسا ئل ہوتے ہیں مگر انتہائی حکمت اور خوش اسلوبی کے ساتھ انہیں سمجھنا اور سمجھانا ہوتا ہے۔

غزالی: موجودہ قیادت میں تیسری شخصیت اعظم خان کی ہے۔ آپ کے ان سے بھی روابط رہے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا جائزہ ہے؟

بدرکاظمی: اعظم خان اس وقت جو بھی کچھ ہیں، اندازے کی غلطی انہیں مارگئی ہے۔ رامپورمیں 1973 میں میری ہی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ بازار نصراﷲ میں شاید شمسی صاحب کا مکان تھا جہاں پرمیٹنگ ہوئی تھی اور میرے ہی قلم سے محمد اعظم خان نے مسلم مجلس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1974 اور 1977 میں انہوں نے مجلس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ 1980 تک ان میں مروت بھی تھی اورملی معاملات میں وہ سنتے بھی تھے اوراس پر غور بھی کرتے تھے۔ اس کے بعد ان میں ایک خناس یہ پیدا ہوتا چلا گیا کہ ہندوستان میں اگر کوئی مخلص اور ایماندار مسلم سیاست داں ہے تو وہ میں ہوں باقی سب کرپٹ اور بے ایمان ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں شدت پسندی آئی جس کی وجہ سے انہوں نے خاص طور پر ان مسلمانوں کو جو مذہنی شناخت رکھتے تھے ان کےساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیارکیا۔ اس سے لگنے لگا تھا کہ یہ شخص ہم سے دورہوتا چلاجارہا ہے۔ پچھلے انتخاب میں ان کو ایک غلط فہمی یہ تھی کہ کیسے بھی حالات ہوں حکومت ان کی جماعت ہی کی بنے گی۔ نہ حکومت مرکز میں بنی نہ یوپی میں اوراب بالکل بے یارو مددگار ہیں۔ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ رامپورمیں ان کی جانب سے واقعی لوگوں پر زیادتیاں ہوئی ہیں۔ اور بھائی معذرت کے ساتھ اب تو یہ ایسا لگتا ہے کہ چند لوگوں کو چھوڑ کرعلیگڑھ نے جتنے بھی لوگ ملت کو دئے ان سب کے نزدیک ذاتی مفادات مقدم تھے ملت ثانوی درجہ رکھتی تھی۔ سب نے ابتدا ملت کا جھنڈا اٹھا کر کی مگرجب وقت آیا تو ملت پس پشت چلی گئی اورذاتی مفادات سامنے آگئے۔ یونیورسٹی بن رہی ہے تو تاحیات چانسلر آپ اور آپ کے خاندان کے لوگ رہیں گے۔ چلئے یہ بھی سہی۔ پھر اس میں لوگوں پر ظلم وستم ہورہے ہیں۔ حتیٰ کہ درمیان میں جب ان کو پارٹی سے نکالا گیا تو یہ شخص کہہ رہا تھا کہ ملائم سنگھ نیچے جو کچھ پہنے ہوئے ہے وہ بھی زعفرانی ہے اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ میرے بچے کی شادی پر پہلا لقمہ توڑیں گے تو ملائم سنگھ توڑیں گے۔ تو ملت سے ان کا کیا لینا دینا رہ گیا۔ نہ انہیں ملت کی اب کوئی پرواہ ہے۔ اب تو میں ہوں، میری بیوی اور میری اولاد۔

غزالی: آپ نے اعظم خان کے بارے میں فرمایا ہے کہ مذہبی حلئے والوں کے تئیں ان میں بہت نفرت اور حقارت ہے۔ مذہبی حلئے والوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟

بدرکاظمی: مثلاً داڑھی ٹوپی والے یا علما یا وہ لوگ جو مدارس اور مساجد سے وابسطہ ہیں ۔ کیونکہ وہ اوقاف کے وزیررہ چکے ہیں وہاں بہت سی بدعنوانیاں ان کے علم میں آئیں۔ اس وجہ سے ان میں بہت شدت پیدا ہوگئی اور اب ان کی نظرمیں کوئی ایماندار رہ نہیں گیا۔ مگریہ طریقہ بہت غلط ہے۔ آپ سب کو ایک ہی خانے میں کیسے رکھ سکتے ہیں؟

غزالی: مگرعلماء  بیزاری کا الزام تو آپ پر بھی ہے؟ ۔

بدرکاظمی: نہیں ہر ایک کے لئے نہیں ہے۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ میری مخالفت صرف مدارس کے تعلق سے ہے جو کچھ وہاں ہورہا ہے۔ جس طرح کی نسل وہاں تیار ہورہی ہے اور جس طرح کے لوگ وہاں سے آرہے ہیں۔ وہ اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کرپارہے ہیں اس کی  تکلیف ہے اورکچھ نہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ مولانا قاری طیب صاحب علیہ رحمہ اور مولانا سالم صاحب علیہ رحمہ سب کو میں نے سرپر اٹھائے رکھا۔ مولانا علی میاں کا آپ کو ایک واقعہ سنادیتا ہوں۔ (نہایت جذباتی اور آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے) میں یہ بات کہنا نہیں چاہتا تھا۔ آپ نے مجبورکردیا تو کہہ رہا ہوں۔ ڈاکٹرفریدی علیہ رحمہ کو مولانا علی میں نے جو صدمہ پہنچایا تھا، اسے فراموش نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹرصاحب نے کبھی ایک پیسے کا چندہ مسلم مجلس کے لئے نہیں کیا۔ ہمیشہ اپنی اپنی دولت اس پر لٹائی۔ جب 1974 کا الیکشن آیا تو جتنا بڑا آپ کا یہ ہال ہے وہ پورا الیکشن لٹریچر سے بھرا ہوا تھا جس میں علی میاں کی اپیلوں، جو انہوں  نے خود لکھوائی تھیں، پوسٹرز اور جتنا بھی لٹریچر تھا اس میں علی میاں نمبر ایک پر تھے ، تصویروں کے ساتھ۔۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مجلس علی میاں کے کہنے پر بنائی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ڈاکٹرڈاکٹری کرتے رہیں گے اور انجینئرز انجینیری کرتے رہیں گے اور یہ قوم تباہ ہوجائے گی۔ تو ڈاکٹرصاحب میدان میں آگئے۔ مگر ایک دن یہ ہوا یہ کہ بہوگنا یوپی کے وزیراعلیٰ تھے۔ وہ روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے علی میاں کے پاس پہنچ گئے۔ الیکشن کی پوری تیاری ہے، تمام لٹریچر تیار ہے اور بہوگنا تھوڑی دیر کے لئے مولانا کے پاس گئے۔ اس وقت گومتی کے کنارے پر جو پٹری ہے یہ کچی ہوا کرتی تھی اور اس پر دھول اڑا کرتی تھی۔ علی میاں  نے بہوگنا جی سے اسے پکی کروانے کو کہا جو انہوں نے تین دن میں کروادی اور علی میاں  کا ڈاکٹرصاحب کے پاس فون آگیا کہ میں معذرت چاہتا ہوں میری اپیل شائع نہ کی جائے۔ میں بہت کم عمر تھا مگر ڈاکٹرصاحب کے بہت قریب تھا۔ا ﷲ جانتا ہے کہ میں نے (تقریباً روتے ہوئے) ڈاکٹرصاحب کے چہرے پر ایسی تکلیف اور مژمردگی کبھی نہیں دیکھی۔ بھائی صاحب کا تو یہ کہنا تھا کہ اگر ڈاکڑصاحب زندہ رہ جاتے اور الیکشن گزرجاتا تو ایک مرتبہ پھر قائد اعظم اورآزاد کے درمیان ایک جنگ دیکھنے کو ملتی۔

غزالی: آپ کے بارے میں بھی لوگوں کو غلط فہمیاں ہیں۔ مثلاً مسلم مجلس مشاورت کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے میں آپ کا کردار۔

بدرکاظمی: میں وہیں آرہا تھا۔ میری تربیت بڑے بھائی کے ساتھ ہوئی ، میں زندگی میں جو کچھ حاصل کرسکا میرے بڑے بھائی کا مرحون منت ہے۔ مشاورت میں جب اختلافات ہوئے اور جس حد تک گئے اس کے اصل ذمہ دار سید شہاب الدین صاحب مرحوم تھے۔ ذوالفقاراﷲ صاحب مشاورت کے صدر تھے اورانہیں بائی پاس کر کے انہوں نے مشاورت پر قبضہ کیا۔ ہاشم پورہ اور ملیانہ کے نام پر تقریباً آٹھ نو لاکھ روپیہ باہر سے آیا تھا یہ اندرون ملک سے آیا تھامجھے یاد نہیں۔سید  شہاب الدین صاحب نے وہ رقم کنارہ بینک میں فکسڈ ڈپوزٹ میں جمع کروادی تھی۔ اس سے ملنے والے سود سے مشاورت کی میٹنگیوں کے اور دیگر اخراجات ادا ہوتے تھے۔ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ شہاب الدین صاحب جیسے شخص نے یہ حرکت کیسے کی۔ اور اس غلطی کو آج تک کسی نے درست نہیں کیا۔ اس بات پر بھائی صاحب کا شدید اختلاف تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے دو مشاورتیں بنیں اور بھائی صاحب نے دیوبند کورٹ میں شہاب الدین صاحب اور علی میاں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا کہ جوپیسہ متاثرین کی مدد کے لئے آیا تھا وہ ان کو نہیں پہنچایا گیا۔ کیونکہ مقدمے میں ڈاکٹرشکیل صاحب مرحوم بھی فریق تھے۔ مجھے اس مقدمے کا علم نہیں تھا مگر جب میرے علم میں یہ بات آئی تو راستے میں شکیل صاحب کا مطب تھا، میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ ڈاکٹرصاحب جو لوگ شیش محل میں رہتے ہیں وہ دوسروں کےمکانوں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے۔ انہوں نے مجھے بہت غور سے دیکھا اور کہا کہ کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا میں اس وقت سہارنپورجارہا ہوں شام میں بات کروں گا۔ اگلے دن میں بھائی صاحب کے پاس گیا اور شکیل بھائی کو اسکوٹرپر ساتھ لے کرگیا۔ میں نے ان سے کہا کہ جب آپ نے محض تعلقات کی بنیاد پر ذوالفقاراﷲ صاحب کا نام نہیں رکھا تو علی میاں کا نام بھی نکال دیں۔ میں نے زوردے کر کہا کہ علی میاں کاآج بھی ملک و بیرون ملک ایک وقار ہے۔ آپ کو مقدمہ کرنا ہے تو  سید شہاب الدین صاحب اوران کے حواریوں کے خلاف کردیجے۔ اس سے آپ کی اپنی رسوائی ہوگی۔ مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ بہرحال مقدمہ دیوبند سے سہارنپور چلاگیا جہاں ایک مسلمان جج تھے انہوں نے وہاں مقدمہ خارج کردیا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے ڈاکٹرصاحب کے ساتھ کیا وہ مسئلہ الگ ہے مگر میں نے کبھی مولانا علی میاں کے لئے بدزبانی نہیں کی۔ ان کا ایک علمی مقام ہے اور میں ان کا مداح ہوں۔ مدارس پر میری تنقید اس بات پر ہے کہ کبھی ان میں اساتذہ بھی اعلیٰ گھرانوں کے ہوتے تھے اورطلبا بھی جن میں بہت سے باصلاحیت علما ء نکلتے تھے۔ مگرآج گھرکے سب سے نااہل بچے کو مدرسے میں بھیجا جاتا ہے کہ کچھ اور نہیں کر سکتا تو مولوی تو بن ہی جائے گا۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ پچیس تیس سال سے جو کچھ یہاں سے نکل رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔

غزالی: محمد علم اﷲ کی تحریر کردہ کتاب  مسلم مجلس مشاورت ایک  مختصر تاریخ میں کہا گیا ہے کہ جب مشاورت کے جنرل سیکریٹری تھے اور کسی موقع پر شفیع مونس صاحب نے آپ کو خط لکھا کہ اب آپ مشاورت کے جنرل سیکریٹری نہیں رہے اور آپ سے انہوں نے مشاورت کے اکاؤنٹ کا حساب مانگا تو آپ نے اس کو جواب دیا کہ آپ ان کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے اور حساب نہیں دیا۔

بدرکاظمی: میں مشاورت میں صرف مجلس کے نامزد نمائندے کی حیثیت میں تھا۔ میرے پاس کبھی کوئی عہدہ نہیں رہا۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ یقیناً یہ غلط فہمی ہے یا طباعت کی غلطی۔ ہو سکتا ہے یہ خط و کتابت شفیع مونس صاحب اور بھائی صاحب کے درمیان ہوئی ہو۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: