صحیفہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول

محمد غزالی خان

کئی سال سے مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ہندوستان میں اردو صحافت میں مواقع محدود ہونے کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کواس وادی میں قدم رکھنے کا بڑا شوق ہے۔ ان میں سے جن کو کسی اخبار میں لکھنے کا موقع مل بھی جاتا ہے تو ان کی تحریر شدہ رپورٹوں اور مضامین سے ایک بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اردو اخبارات میں تربیت اورایڈیٹنگ کا رجحان بالکل ختم ہوچکا ہے۔

اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کافی پہلے میں نے ایک واٹس ایپ گروپ پر رپورٹنگ پر کچھ نکات کی جانب اشارہ کا وعدہ کیا تھا۔ یہ مضمون اسی وعدے کی تکمیل ہے۔

خبر نگاری (رپورٹنگ):

رپورٹنگ میں ایک خاص بات جس کا خیال رکھا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ خود آپ کو کوئی رپورٹ دے توکیا آپ واقعہ بیان کرنے والے کی لمبی اور غیر ضروری تمہید سننا یا پڑھنا پسند کریں گے یا پہلے یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا ، کب ، کہاں اور کیسے واقعہ وقوع پذیرہوا۔ سوچئے کسی رپورٹ کے پہلے ہی جملے میں آپ کو یہ پڑھنے یا سننے کو ملے :

’’کیسا ظلم ہے۔ درنگی اوروحشی پن کا ایسا مظاہرہ جس سے چنگیزخاں اور ہلاکو کی روحیں بھی کانپ اٹھی ہوں گی‘‘ وغیرہ توآپ کا کیا ردعمل ہوگا، خاص طورپر جب آپ جلدی میں ہوں اور اخبارپرایک طائرانہ نظرڈال کرآگے بڑھ جانا چاہتے ہوں۔

اس فن سے وابستہ ماہرین نے کافی غور و فکر کے بعد اس کے کچھ اصول و ضوابط مرتب کیے ہیں تاکہ ان اذیتوں سے بچا جا سکے جو ایک قاری یا محقق کو پیش آسکتی ہیں۔ اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک نیوز رپورٹ کیسے تیار کی جائے اور اس کے لیے کن اصولوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے ۔

ایک خبر میں پانچ Ws یعنی پانچ سوالوں Who, How, What, Where, When کے جواب پہلے ہی پیرا گراف میں آ جانے چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب سے پہلے مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کے جواب اول پیراگراف میں دئے جانے کے بعد دیگر تفصیلات کا ذکرہو:

  • کیا واقعہ ہوا؟
  • کہاں ہوا؟
  • کب ہوا؟
  • اس میں کون ملوث تھا؟
  • یہ کیسے ہوا؟

قاری کے لئے رپورٹ کو مزید دلچسپ اور آسان بنانے کے لئے مختصر جملے اور چھوٹے چھوٹے پیرا گراف استعمال کیجئے۔ اردو اخبارات میں عام طور پیرا گراف کا خیال نہیں رکھا جاتا اور بعض اوقات پوری کی پوری رپورٹ صرف ایک پیراگراف پر مشتمل ہوتی ہے۔ حالانکہ ایسا کرنے کی بظاہرکوئی معقول وجہ نظرنہیں آتی ۔ ممکن ہے کہ ایک صفحے پر زیادہ سے زیادہ خبریں بھردینے اور اس کے لئے جگہ بچانے کو غرض سے ایسا کیا جاتا ہو۔ مگر نیوز پورٹلزپر اس بات کا خیال نہ رکھے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

نیوز رپورٹ میں جن اہم باتوں کا خیال رکھا جانا چاہئے وہ یہ ہیں:

  • لیڈ پیرا گراف، جسے انٹرو بھی کہا جاتا ہے، میں پانچ Ws کے جواب آجانے چاہئیں۔
  • زبان عام فہم اورآسان ہونی چاہئے۔
  • جملے چھوٹے اورمختصر ہوں، ایک جملہ چھہ سے سات الفاظ سے زیادہ نہ ہو تو بہتر ہے۔
  • خاتمہ یا انگریزی میں فُل اِسٹاپ (۔)، سوالیہ (؟)، سکتہ یعنی کوما (،)، کولن (:) ، قوسین یا بریکٹس () واوین یعنی انورٹڈ کوما (” “) وغیرہ کا خیال رکھیں۔
  • جملہ مکمل ہونے کے بعد فل اسٹاپ (۔) ضرورلگائیں۔ اس سے تحریر میں ربط بھی رہتا ہے اورقاری کو بات سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔
  • کوما ان مقامات پراستعمال ہوتا ہے جہاں جملے میں ٹھہرنا یا وقفہ دینا مقصود ہو۔
  • عام طور پر اردو اخبارات میں انورٹڈ کوما (”  “) استعمال کرنے کا رواج بہت کم ہے۔ جبکہ کسی کی زبان سے ادا کئے گئے یا تحریر شدہ الفاظ من و عن نقل کرتے وقت انورٹڈ کوماز کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ انورٹڈ کوماز کواسپیچ یا کوٹیشن مارکس بھی کہا جاتا ہے۔ انورٹڈ کوماز سے پہلے کولن (:) استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ضلع کلکٹرنے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’شہر میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور حالات تیزی کے ساتھ معمول پر آرہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہم شہریوں سے درخواست کرتے ہیں کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ حالات اسی طرح بہتر ہوتے رہے تو اگلے ایک دو روز میں رات کا کرفیو بھی ہٹالیا جائے گا۔‘‘

اسی طرح کسی کتاب یا تحریرسے اقتباس نقل کرتے وقت بھی انورٹڈ کوماز کا استعمال کریں اور کتاب کا نام یا تحریر کا عنوان بھی انورٹڈ کوماز میں نقل کریں۔ مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب ’’انڈیا ونزفریڈم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یہ بات ریکارڈ پر آجانا ضروری ہے کہ جو شخص ماؤنبیٹن کے منصوبے کا سب سے پہلے شکار ہوا وہ سردار پٹیل تھے۔شاید اس وقت تک پاکستان جناح کیلئے اپنی بات منوانے اور سودے بازی کا ایک بہانہ تھا۔ مگر پاکستان کی مانگ میں وہ حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔ ان کی اس حرکت سے سردار پٹیل اس قدعاجز آگئے تھے کہ اب وہ تقسیم پر یقین کرنے لگے تھے۔۔۔ویسے بھی ماؤن بیٹن کے آنے سے پہلے بھی وہ 50% تقسیم کے حق میں تھے۔ ان کا یقین تھا کہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ کام نہیں کر سکیں گے۔ وہ یہ بات کھل کر کہہ چکے تھے کہ اگر مسلم لیگ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے تو اس کیلئے انہیں تقسیم بھی قبول ہو گی۔ شاید یہ کہنا نا مناسب نہ ہو گا کہ ولب بھائی پٹیل ہی تقسیم کے اصل معمار تھے۔‘‘ (Wins Freedom, Orient Longman, Madras, 1988)

کتاب کا حوالہ اور اس سے اقتباس پیش کرتے وقت ناشر کا نام اور صفحہ نمبر ضرور درج کریں۔ ہمارے یہاں اکثر اردو کے کالم نگاروں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بڑے بڑے لوگوں کی باتیں نقل کرتے ہیں لیکن نہ تو اس کا کوئی حوالہ دیتے ہیں اور نہ ہی فنی باریکیوں کا خیال رکھتے ہیں، اس کی وجہ سے کئی مرتبہ قاری التباس کا شکار ہو جاتا ہے کہ یہ کالم نگار کی اپنی بات ہے یا کسی اور کی، اس سلسلے میں دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے ۔

اخباری اصطلاحات:

یہاں پرنئے صحافیوں کو چند اخباری اصطلاحات سے مانوس کرانا غیرضروری نہ ہو گا۔

Headline (شہ سرخی):

شہ سرخی ایسی ہونی چاہئے جوقاری کو اپنی طرف متوجہ کرے اور رپورٹ پڑھنے پر مجبورکردے، مگر سنسنی خیزی یا ایسی شہ سرخی سے مکمل پرہیز کیجئے جس کا رپورٹ سے کوئی واسطہ یا تعلق نہ ہو۔ اسی طرح بلا وجہ سرخی میں اشعار کے استعمال سے بھی  گریز کرنا چاہیے کہ اس سے کئی مرتبہ مقصد واضح نہیں ہوپاتا اور قاری خبر تک نہیں پہنچ پاتا ۔

کچھ اخبارات ہیجانی یا غلط بیانی پر مبنی سرخیاں لگانے کی حرکت میں عام طور پر مبتلا ہوتے ہیں۔ اس سے وقتی طورپرتو شاید ان کی تعریف و توصیف ہوجاتی ہو مگرآہستہ آہستہ ان کی حقیقت قارئین پر کھلتی جاتی ہے اور ان کی اور ان کے اخبار کی عزت دو کوڑی کی نہیں رہ جاتی۔

واضح رہے کہ جھوٹے شخص کے لئے جس ذلت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے وہ اٹل ہے۔ سچ کا جو معیار اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا ہے وہ تو مسلمان کیا کسی بھی صحافی کے لئے زریں اصول ہے یعنی:

’’باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤاور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔‘‘ (سورة البقرة، آیت نمبر42)

حالانکہ صحافت میں غیرجانب داری اور صداقت و دیانت کے عنوان پر الگ سے بحث کی جانی چاہئے، مگر کیونکہ عام طورپر سب سے زیادہ اور فحش قسم کی غلط بیانی ہیڈ لائن میں ہی کی جاتی ہے اس لئے اس پہلو پر یہاں مختصراً بات کی جارہی ہے۔

جس بات کا خاص طورپر خیال رکھا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ آپ کا قاری آپ کی تحریر پورے انہماک اوراس یقین کے ساتھ پڑھتا ہے کہ آپ صرف اور صرف سچائی بیان کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کی حیثیت ایک گواہ کی ہوجاتی ہے اور گواہی سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائےہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔‘‘ (سورةالنساء165)

Byline (بائی لائن): یعنی رپورٹریا قلم کارکا نام

Dateline (ڈیٹ لائن): رپورٹ کے بالکل شروع میں اس شہرکا نام جہاں سے رپورٹ لکھی جارہی ہے۔

چند اضافی مشورے:

کوشش کیجئے کہ آپ کی رپورٹ یا مضمون ہر لحاظ سے واضح ہو اور مکمل ہو۔ مثال کے طور پر اس رپورٹ کو دیکھئے۔

یہاں نتائج پرطلبائے مدارس کے جس تعجب کا ذکرکیا جارہا ہے اگراس کے ثبوت کے طور پر کسی طالب علم کا تبصرہ بھی نقل کردیا جاتا تو رپورٹ میں مزید جان پڑجاتی۔ یا اسی رپورٹ مییں درج بیان کو ہی اگر یوں لکھ دیا جاتا:

ان حیرت ناک اور نا قابل یقین نتائج پرتبصرہ کرتے ہوئے مدرسہ فلاں کے استاذ معراج الدین صاحب نے کہا: ’’ہم نے دن رات ایک کر کے اپنے طلبا کو دینی و عصری تعلیم دے کر امتحان کے لئے تیار کیا مگر جب نتائج کا اعلان ہوا تو اس میں وہ طلبا ٹاپرز میں شامل ہوگئے جنہوں نے کبھی کسی دینی تعلیمی ادارے کی طرف دیکھا نہیں۔‘‘

مدرسہ فلاں میں فضیلت کے طالب علم انصاراللہ نے کہا: ’’ان طلبا کی امتحان کی کاپیاں ماڈل کے طور پر سامنے لائی جائیں تاکہ ہم بھی تو دیکھیں کہ انہوں نے کون سا طریقہ اپنیایا ہے اور ان کی اعلیٰ صلاحتیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکیں۔‘‘

اسی طرح رپورٹ میں یہ بات واضح نہیں ہو پارہی ہے کہ جن چار افراد نے وزیراعلیٰ اور رجسٹرار کے نام مکتوب بھیجا ہے ان کی کیا حیثیت ہے اور یہ کہ وزیر اعلیٰ کو بھیجا گیا مذکورہ خط مشترکہ طورپر لکھا گیا ہے یا فرداً فرداً خطوط بھیجے گئے ہیں۔ بہرحال قوی امکان یہ ہے کہ رپورٹر مشترکہ طور پر لکھے گئے خط کا ذکر کرہا ہے۔ لہٰذا یہ بات اس طرح کہی جانے چاہیے تھی:

نتائج سے مضطرب آج مدرسہ فلاں فلاں کے چاراساتذہ، مولانا فیاض احمد مصباہی، مولانا سلیم امجدی اورمفتی شہر عالم مصباہی صاحب نے ایک مشترکہ خط وزیراعلیٰ کو بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک روانہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے: ’’۔۔۔۔ ‘‘

مذکورہ رپورٹ میں جائز اور سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں مگر الزام لگانے والے کسی شخص کا نام واضح طورپر نہیں لکھا دیا گیا ہے۔ کہنے والا کون ہے؟ کیا کرتا ہے؟ کیا ذمہ داری نبھاتا ہے؟ کس بنیاد پر بات کہہ رہا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ بعض مواقع پر نام واضح نہ کرنا رپورٹر کی مجبوری ہوتی ہے ایسے موقع پر بھی ضروری ہے کہ خبر نگار اپنے قاری کو بتائے کہ یہاں پر نام کسی انہونی کی خاطر نام واضح نہیں کیاجا رہا ہے۔

اسی طرح خبر میں فریق مخالف کی رائے بھی ضروری ہے جو عام طور پر اردو اخبارات میں مفقود ہوتی ہے یاد رکھیں چاہے آپ  دوسرے فریق کی رائے سے اتفاق رکھتے ہوں یا نہیں ، اگر آپ اس کی رائے شامل نہیں کرتے تو آپ کی رپورٹ یکطرفہ کہلائے گی اور آپ معروضیت جو خبر کی روح ہے اس کو زک پہنچانے کے ذمہ دار ہوں گے ۔

آپ رپورٹ لکھ رہے ہوں یا کوئی مضمون اپنے آپ کو کلاس روم میں کھڑے ہوئے ایک استاذ کی جگہ رکھ لیجئے اور قارئین کو طلبا کی جگہ۔ جبکہ بہت سے قارئین کا علم آپ سے بہت زیادہ ہوگا مگران میں بہت سے ایسے بھی ہوں گے جنہیں مسئلے کی نوعیت کا زیادہ علم نہیں ہوگا۔ لہٰذا آپ یہ قیاس کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے کہ جس موضوع پر آپ لکھ رہے ہیں آپ کے قاری کو اس کا علم ہوگا۔

اشاروں کنایوں میں بات کو نہ کہہ کر پوری وضاحت کیجئے اورکسی واقعے کا حوالہ یہ سمجھ کر نہ دیں کے اس کا نام لیتے ہی قاری سمجھ جائے گا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔  مثال کے طور پر محض یہ لکھ کر کام چلانے کی کوشش نہ کریں کہ،’’ایسے ہی واقعات کچھ عرصہ قبل دیوبند میں بھی واقع ہوئے تھے۔‘‘ اس کے بجائے پوری بات لکھئے کہ، ’’گزشتہ 7 مئی کو دیوبند میں بھی رات کے اندھرے میں پولیس نے محلہ پٹھان پورہ میں مسلمانوں کے گھروں پرریڈ کیا تھا اورکئی افراد کو گرفتارکیا تھا۔‘‘ اگر انٹرنیٹ پر یہ خبر موجود ہے تو اس کا لنک بھی ڈال دیجئے۔ لنک ڈالنے کا طریقہ اس مضمون کے آخرمیں بتایا جائے گا۔

پریس ریلیز:

ان تمام نکات کا اطلاق پریس ریلیزپر بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسی پریس ریلیز کے شائع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جو خبرکے انداز میں تیارکی گئی ہو۔ پریس ریلیز کے روایتی انداز سے گریزکیجئے۔ ’’جلسے کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوئی‘‘ میں کسی کے لئے کوئی خبر نہیں ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی جلسہ تلاوت کلام پاک سے شروع ہوتا ہے۔ اور نہ ہی، ’’جلسے کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا‘‘ اس میں بھی کسی کے لئے کوئی خبر نہیں ہے کیونکہ ایسا مسلمانوں کی میٹنگوں میں ہوتا ہی ہے۔ لہٰذا پریس ریلیز اوپر بیان کردہ صحافتی اصولوں کے مطابق تیار ہونی چاہئے۔ لمبی چوڑی تقریر نقل کرنے کے بجائے اگر اس کا مغز پیش کر دیں تو وہی کافی ہے۔

حالانکہ اب تو معاملات جہاں پہنچ چکے ہیں معلوم نہیں اب اس مسئلے پرمسلمان آواز اٹھاپائیں گے یا نہیں مگر سمجھانے کے لئے یہ مثال دی جارہی ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے پر لکھتے ہوئے آپ کا یہ بیان کافی نہیں ہے کہ آئین مرتب کرنے والوں نے مسلمانان ہند کو یقین دلایا تھا کہ ان کے آئیلی قوانین محفوظ رہیں گے۔ آج کل انٹرنیٹ نے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔ تھوڑی سی محنت کرکے اپنے قاری کو بتائیے کہ جس وقت دستورساز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ کا مسئلہ زیر بحث آیا تو مسلمانوں نے اس پر سخت اعتراضات کئے تھے جس کے جواب میں ڈاکٹر امبیڈ کرنے یہ کہہ کر مسلمانوں کا اطمینان دلایا تھا کہ:

’’کسی کو اس بات سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر حکومت کے پاس اختیارات ہوں گے تو وہ فوراً کوئی ایسا قدم اٹھا لے گی جو مسلمانوں یا عیسائیوں یا کسی دوسرے فرقے کے لئے قابل اعتراض ہو۔ جن مسلم ارکان نے اس مسئلے پر تقاریر کی ہیں ان سمیت ہم سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اختیارات ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔۔۔کیونکہ ان اختیارات کو استعمال کرتے وقت مختلف فرقوں کے جذبات کا خیال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکومت اپنے اختیارات اس انداز میں استعمال نہیں کر سکتی کہ وہ مسلمانوں کو مشتعل کر کے بغاوت پر آمادہ کر دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی حکومت نے ایسا کیا تو وہ احمق حکومت ہوگی۔‘‘ (Constituent Assembly Debates Vol)

کمپیوٹریا موبائل فون

بعض اوقات ہم سب کو ہی کوئی تحریرمرتب کرنے کے لئے موبائل فون استعمال کرنے پڑجاتا ہے۔ مگر بغیر مجبوری اس کے استعمال سے گریز کیجئے۔ موبائل فون کے چھوٹے اسکرین پر ایڈیٹنگ کرنا مشکل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فون پرآپ کو وہ تمام سہولیات میسر نہیں ہوتیں جو کمپیوٹرپرورڈ میں کوئی مضمون تحریر کرتے وقت دستیاب ہوتی ہیں۔

اگرآپ نے ورڈ استعمال کرنا نہیں سیکھا ہے تواسے ضرورسیکھیں اوراپنی رپورٹس اورمضامین ورڈ پر ہی ٹائپ کریں۔

ہائپرلنک

ہائپرلنک، ویب سائٹ پراپلوڈ کئے گئے مضمون میں کسی خاص لفظ یا جملے پراس عنوان پرکسی دوسرے مضمون کے ڈالے گئے لنک  یا انسلاک کو کہتے ہیں۔ ہم مثال کے طورپر یہاں اپنے  بلاگ کا لنک ڈال دیتے ہیں۔ یہاں، نیلے رنگ میں ’’بلاگ لا لنک‘‘ پر کلک کرتے ہی آپ ہمارے بلاگ پر پہنچ جائیں گے۔ یہی کام آپ اپنے مضمون میں کر سکتے ہیں۔ بلکہ آپ کو ایسا کرنا چاہئے۔

عام طورپراردوویب سائٹس پرہائپرلنک کی سہولت نہیں ہوتی۔ اگرآپ خود اپنا نیوزپورٹل یا بلاگ شروع کررہے ہیں یا ان نیوز پورٹلز کے لئے لکھ رہےہیں جن پر ہائپر لنک کی سہولت موجود ہے توضروری لنک ضرورڈالیں۔ ورڈ پریس پر ہا ئپر لنک کی سہولت موجود ہے اور اس وقت اکثر نیوزپورٹلز ورڈ پریس پر ہی ڈیزائن ہورہے ہیں۔

ہائپرلنک ڈالنے کا طریقہ:

کسی لفظ پرہائپرلنک ڈالنے کے لئے اس پرکرسر لے جا کر ہائی لائٹ کیجئے جیسے ذیل والے اسکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے :

اور ماؤس سے رائٹ کلک کیجئے جس کے بعد آپ کے سامنے ایسی ایک لسٹ نظرآئے گی:

اس میں Link سلیکٹ کیجئے۔ Link سلیکٹ کرنے کے بعد ایک نئی ونڈو نمودار ہوگی۔ اس میں Address والے خانے میں مطلوبہ لنک ڈال کر OK پر کلک کیجئے۔ جیسے ہی آپ OK پر کلک کریں گے ہائ لائٹ کئے گئے لفظ کا رنگ تبدیل ہوجائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر مطلوبہ لنک موجود ہے جس پر کلک کرنے سے لنک والا پیج کھل جائے گا۔

 آخری بات:

لکھنا ایک فن ہے اور کسی بھی فن کو اچھی طرح سیکھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان دوست، مصنف اور صحافی علم اللہ صاحب کے مطابق صحیفہ نگاری اور انشاء پردازی سے متعلق مولوی عبد الحق کی “قواعد اردو” اور سید اقبال احمد قادری کی ’’رہنمائے اخبار نویسی‘‘ بہت اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اردو صحافت کا بائبل ہیں وہ نوجوان جو اس میدان میں قدم رکھ چکے ہیں یا رکھنا چاہتے ہیں انہیں یہ دو کتابیں ضرور پڑھنی چاہئیں۔ یہ دونوں کتابیں آرکائیوز ڈاٹ کام کے ساتھ ساتھ ریختہ اردو پر بھی دستیاب ہیں۔ دونوں کتابوں کے لنک ان کے ناموں پر موجود ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: