آیا صوفیہ: شاید کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات

محمد غزالی خان

بالآخرآیا صوفیہ دوبارہ آباد ہوگئی اوروہاں نماز ادا کی جانے لگی۔ اللہ کرے ترکی عدلیہ کے ذریعے کیا گیا صدراردوغان کا یہ فیصلہ ترکی کے ساتھ تمام ملت اسلامیہ کے لئےنیک فال ثابت ہو۔ اللہ کرے کہ اب کبھی کسی اورمسجد کو آیا صوفیہ، بابری مسجد اورجبراً ویران کروائی گئی ہزاروں مساجد والا انجام نہ دیکھنا پڑے۔ اللہ کرے ہمارے اپنے ملک کی دارالسطنت دہلی سمیت دور و نزدیک تمام صوبوں میں وہ سیکڑوں مساجد بھی آباد ہوجائیں جن پر محکمہ آثارقدیمہ کا ناجائز قبضہ ہے اور جنہیں آباد کرنے کا موقع بھی ہم نے کھو دیا۔ اللہ کرے کہ کوئی نیک بندہ ان مساجد کے لئے بھی آواز اٹھائے جوچین میں مسلسل شہید کی جارہی ہیں اوران مظلوموں کے لئے بھی آواز بلند ہو جنہیں کیمپوں میں قید کردیا گیا ہے، ان ماؤں بہنوں کی بھی کوئی فکر کرلے جن کے گھروں میں انسان نما چینی سانڈ چھوڑدئے گئے ہیں کہ وہ جب چاہیں امت کی مظلوم بہن بیٹیوں کو اپنی جنسی ہوس کا شکار بنائیں ۔

ترکی حکومت کی تائید میں عدالتی فیصلے سے امت مسلمہ، بالخصوص برصغیرہندوپاک میں، مسلمانوں میں مختلف آراء پائی جارہی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ دنیا بھر میں غلبہء اسلام کی ابتدا ہو چکی ہے تو دوسری جانب وہ ہیں جنہوں نے اردوغان اور مودی کو ایک ہی خانے میں رکھ دیا ہے۔ انتہا پسندی میں کوئی کسی سے کم نہیں۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اردو لکھاریوں کا ہے جو اردو اخبارات اور سوشل میڈیا پر اپنے قارئین کو بتا رہے ہیں کہ جیسے ہی حکومت کی تائید میں ترکی عدلیہ کا فیصلہ آیا ’مغرب میں صف ماتم بچھ گئی‘ اور’کفار کے دلوں میں مسجد کے مینار تلواروں کی طرح پیوست ہوگئے۔‘ 

اتفاق سے میں ایک عیسائی ملک برطانیہ کی دارالحکومت لندن میں رہتا ہوں اور اس فیصلے کے بعد  لندن کے کئی علاقوں میں جانا ہوا مگر یقین جانیں مجھے کہیں بھی کوئی عیسائی ماتم کرتا نظر نہیں آیا۔ میرے گھر کے نزدیک تین چرچ ہیں، تینوں جیسے پہلے ویران تھے، اسی طرح آج بھی ویران ہیں۔ ان میں نہ کوئی ماتمی میٹنگ ہوئی اور نہ پادریوں نے کسی خاص دعائیہ یا مذمتی محفل کا اہتمام کیا ۔ میرے جتنے پڑوسی ہیں سب معمول کی زندگی گزارتے دکھائی دئے ۔ ہاں ترکی سے ملنے والی خبریں دیکھنے اور پڑھنے کے بعد اگر وہ میرے بارے میں یہ سوچ رہے ہوں کہ تو جتنا بھی خوش اخلاق ہونے کا ڈرامہ کرلے ہمیں معلوم ہے کہ تم لوگ کتنے متعصب ہواور تم میں کتنی عدم برداشت ہے تو یہ ان کا حق ہے کہ ہم نے یقینا اپنی ہزاروں سالہ رواداری والی تاریخ سے رو گردانی کرکے انھیں ایسا سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ 

آیا صوفیہ کے بارے میں ترکی عدالت کے اس فیصلے کے شرعی یا غیرشرعی ہونے کی بحث میں میں اس وقت نہیں پڑنا چاہتا، لیکن مجھے کہنے دیں تاریخ میں کی گئی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش ہمیشہ درست ہو ایسا نہیں ہوتا ۔ پہلی غلطی چرچ کو مسجد بنانا تھی۔ دوسری غلطی مسجد کو عجائب گھر میں تبدیل کرنا تھا اور اب تیسری غلطی اسے پھر مسجد بنانا ہے۔ اگر عدالت کا ہر فیصلہ درست ہوتا ہے تو ہم بابری مسجد پر عدالت کے فیصلے سے نا خوش کیوں ہیں؟ اور خدا نخواستہ اگر متھرا اور بنارس کا معاملہ عدالت میں پہنچ جائے (ان دونوں مساجد کی تاریخ بابری مسجد سے بالکل مختلف ہے) اور فیصلہ ہمارے خلاف آجائے تو کیا یہ فیصلہ منصفانہ اورہندوستان کا محض اندرونی معاملہ کہلائے گا؟

 میری ذاتی رائے میں جہاں تک آیا صوفیہ کا تعلق ہے اس پر نہ ہمیں خوشی کا اظہارکرنا چاہیے اور نہ ہی غم کا۔ عقلمندی کا تقاضہ ہے کہ ایسے فیصلوں کی تائید کرکے ہم اپنے ملک میں کسی ایسے ہی حکومتی یا عدالتی فیصلے پر اپنے خلاف جواز پیدا نہ کریں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ مسلم دورحکمرانی میں غیر مسلموں کے لئے پھولوں کے سیج بھی نہیں سجتے رہے تھے۔ ہندوستان میں ہمارے خلاف ثبوت خود ہمارے مورخین کی کتابوں سے نکال کر پیش کئے جاتے رہے ہیں۔

ہم جیسوں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم بابری مسجد اور آیا صوفیہ کا موازنہ کررہے ہیں۔ نہیں بالکل غلط بات ہے۔ ہم موازنہ صرف اس حد تک کررہے ہیں کہ ان دونوں میں اتنی مماثلت ضرور ہے کہ دونوں معاملوں میں مذہب کے بجائے سیاست کا دخل ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح 80 کی دہائی تک نام نہاد رام مندرہندوتوا کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا مگر راجیو گاندھی کے ذریعے بابری مسجد کا تالا کھلواتے ہی نام نہاد رام مندر بی جے پی کے انتخابی منشورمیں شامل ہوگیا، اس طرح جب فتح اللہ گولن کی جماعت کی جانب سے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی بات آئی تھی تو اردوغان حکومت نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کردی تھی کہ ابھی یہ ہمارے ایجندڈے میں نہیں ہے۔ دوسرے بیان کے مطابق جب آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی تجویزترکی کے دو سیکولر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے آئی تو اردوغان صاحب نے کہہ کر اسے رد کردیا تھا کہ استنبول میں ۳۰۰ مساجد ہیں جب تک سلطال احمد نمازیوں سے خالی ہے میں آیا صوفیہ کو تبدیل نہیں کروں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کے نائب وزیراوظم بلند ارنک نے اس تجویز کو ترکی کے خلاف ایک سازش سے تعبیر کیا تھا۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا مسجد سلطان احمد جو بلیو ماسک کے نام سے معروف ہے، نمازیوں سے بھرگئی ہے؟ جواب سیدھا سادہ ہے۔ اردوغان صاحب کی جماعت کو استنبول میں میئر کے الیکشن میں شکست ہو چکی ہے۔ ویسے بھی ان کا اصل ووٹ بینک بڑے شہر نہیں چھوٹے قصبات اوردیہات ہیں جو شہریوں کی بنسبت زیادہ روایت پسند اور مذہبی ہیں۔ ان حالات میں اردوغان صاحب کے لئے اپنے اصل ووٹ بینک کو مستحکم کرنے اوریقینی بنانے کے لئے شاید مذہبی کارڈ کھیلنا سیاسی ضرورت اور مجبوری بن گیا تھا۔

 اردوغان کی اس حرکت کے علاوہ بحیثیت مجموعی میں ان کی قدرکرتا ہوں اور شاید ہر وہ مسلمان کرتا ہوگا جو ان کے برسراقتدار آنے سے پہلے اس ظلم سے واقف ہے جو سیکولرزم کے نام پر ترکی کے مذہبی مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے تھے۔ ترکی جیسے ملک میں، جس کا اعلان شدہ مسلک لادینیت تھا، جہاں کسی خاتون کو حجاب پہننے کی وجہ سے سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے تھے (یہ مبالغہ نہیں۔ 80 کی دہائی میں میرے دوست اور معروف صحافی فہمی کورو، جو اس وقت حکومت کے عتاب کا شکار ہیں، کی اہلیہ کو انقرہ یونیورسٹی میں حجاب پہننے پر سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا) ، دین واپس لانا معمولی کام نہیں۔ یاد رہے کہ تھوڑی سی بے احطیاطی اورجلد بازی کی وجہ سے اردوغان کے سیاسی گرو نجم الدین اربکان کی حکومت کو سیکولر فوج نے برخاست کردیا تھا۔ بہرحال اردوغان صاحب کی خدمات اپنی جگہ، بھکت بن کرہم کسی کی پرستش نہیں کر سکتے۔ 

مجھے آج لندن میں ایک دیوبندی عالم دین کا وہ فون بھی یاد آرہا ہے جو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے برسراقتدارآنے کے بعد دوستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کیا تھا۔ ایک اوردوست، جومرحوم ہوچکے ہیں اور جن کی میں دل سے قدر کرتا تھا، طالبان کی حمایت میں اس حد تک چلے گئے تھے کہ بامیان میں بدھ کے مجسمے کو توڑنے پر پوری طرح بحث کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، ان کی توجیحات پر میں اتنا مشتعل ہوگیا تھا کہ ان کی عمر، تقوے، خلوص اورایثارکا احترام کرنے کے باجود میں نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا تھا کہ، ’میں آپ سے اس موضوع پربالکل بات نہیں کرنا چاہتا۔‘

ہمارے بہت سے بھائی ہمیں بتا رہے ہیں کہ ترکی کے اس فیصلے سے تمام عالم میں تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ اب کیا کہا جائے اس معصومیت یا خود فریبی کو اس کے علاوہ کہ اللہ کرے اچھی تبدیلیاں ہوں۔ تبدیلیاں تو 9/11 کے بعد بھی بہت ہوئی ہیں۔ مسلمانوں اورموجودہ تناظرمیں اردوغان صاحب (اللہ تعالیٰ انہیں استقامت اور بصیرت عطا فرمائے) کی طاقت کا اندازہ بس اس بات سے لگالیجئے کہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم نہیں کرسکتے۔ اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود یوغور مسلمانوں کے لئے عملی طور پر کچھ کرنا تو بڑی بات ہے ، ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آواز تک اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (بہرحال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یوغرمسلمانوں کی دنیا بھر میں اگرکوئی اپنے حالات اوروسائل کے لحاظ سے سب سے زیادہ مدد کررہا ہے وہ صدراردوغان کی حکومت ہی ہے۔ ) ایک مرتبہ ہمت کی تھی جس کے بعد چین کی طرف سے دھمکی ملی تو دوبارہ ہمت نہیں کرپائے۔ اورپھر اس حد تک جانا پڑا کہ ترکی کے اخباروں کو مشورہ دیا کہ اس معاملے میں اعتدال کا مظاہرہ کریں۔  میں یہ باتیں ان کا مزاق اڑانے کے لئے نہیں لکھ رہا ہوں۔ یہ سب لکھتے ہوئے آپ میرے کرب کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

 میں بارہا کہتا رہا ہوں مانگے کے ہتھیاروں سے جنگیں نہیں لڑی جیتی جاتیں۔ ہماری تو حالت یہ ہے کہ فیس بک، ٹوئیٹراورانٹرنیٹ تک ہم کسی کے محتاج ہیں۔ جس جس کا ٹویٹریا فیس بک اکاؤنٹ بند ہوا ہے، اسے خوب اندازہ ہوگا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ مگر مسلم ممالک یا ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں میں رہنے والوں کو آسانی سے یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ ترکی کے اس فیصلے سے اسلام اور مسلمانوں کے عدم برداشت کی جو شبیہ میڈیا نے بنائی ہوئی ہے؛ اسے کتنی تقویت ملی ہے۔ اس فیصلے سے اردوغان سمیت کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اردوغان کے فیصلے کی آنکھ بند کرکے حمایت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق یا تو مسلم ممالک سے ہے یا وہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں میں رہتے ہیں یا مسلم اداروں میں کام کرتے ہیں۔ یہ بیچارے اپنے اطراف کے ماحول کو دنیا یا ہندوستان سمجھتے ہیں۔

یاد ر کھیں اس فیصلے سے پہلے بھی آیا صوفیہ کے قریب والی بلیو ماسک خالی رہتی تھی اوراب بھی خالی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مسلمان پہلے بھی کمزورتھے، اب بھی لاچار ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ یہ کوئی کفرواسلام کا معرکہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘ (سورة الانفال، آیت نمبر (22

اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے۔ ) سورة یونس، آیت نمبر (100

One comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: